مسیحی انفاس — Page 548
۵۴۸ باقی رہا پولوس کا اجتہاد یا اس کے اقوال۔جن لوگوں نے پولوس کے چال چلن پر غور کی ہے اور جیسا کہ اسکے بعض خطوط کے فقرات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہر مذہب والے کے رنگ میں ہو جاتا تھا۔تمہیں خوب معلوم ہے اور اس کے حالات میں آزاد خیال لوگوں نے لکھا ہے کہ اچھے چال چلن کا آدمی نہ تھا۔بعض تاریخوں پولوس کا اجتہاد اور سے پایا جاتا ہے کہ وہ ایک کاہن کی لڑکی پر عاشق تھا اور ابتدا میں اسنے بڑے بڑے یسوع کی عاجزی دکھ عیسائیوں کو دئے اور بعد میں جب کوئی راہ اسے نہ ملی اور اپنے مقصد میں کامیابی کا کوئی ذریعہ اسے نظر نہ آیا تو اس نے ایک خواب بنا کر اپنے آپ کو حواریوں کا جمعدار بنالیا۔خود عیسائیوں کو اس کا اعتراف ہے کہ وہ بڑا سنگدل اور خراب آدمی تھا اور یونانی بھی پڑھا ہوا تھا۔میں نے جہاں تک غور کی ہے۔مجھے یہی معلوم ہوا ہے کہ وہ ساری خرابی اس لڑکی ہی کے معاملہ کی تھی اور عیسائی مذہب کے ساتھ اپنی دشمنی کامل کرنے کے لئے اس نے یہ طریق آخری سوچا کہ اپنا اعتبار جمانے کے لئے ایک خواب سنادی اور عیسائی ہو گیا۔اور پھر یسوع کی تعلیم کو اپنے طرز پر ایک نئی تعلیم کے میں ڈال دیا۔میں کہتا ہوں کہ عیسائی مذہب کی خرابی اور اس کی بدعتوں کا اصل بانی یہی شخص ہے اور اسکے سوا میں کہتا ہوں کہ اگر یہ شخص ایسا ہی عظیم الشان تھا اور واقعی یسوع کا رسول تھا اور اس قدر انقلاب عظیم کا موجب ہونیوالا تھا کہ خطرناک مخالفت کے بعد پھر یسوع کا رسول ہونے کو تھا تو ہمیں دکھاؤ کہ اسکی بابت کہاں پیش گوئی کی گئی ہے کہ ان صفات والا ایک شخص ہو گا اور اس کا نام و نشان دیا ہو اور یہ بھی بتایا ہو کہ وہ یسوع کی خدائی ثابت کرے گا۔ورنہ یہ کیا اندھیر ہے کہ پطرس کے لعنت کرنے اور یہودا اسکر یوطی کے گرفتار کرانے کی پیش گوئی تو یسوع صاحب کر دیں اور اتنے بڑے عیسوی مذہب کے مجتہد کا کچھ بھی ذکر نہ ہو۔اس لئے اس شخص کی کوئی بات بھی قابل سند نہیں ہو سکتی ہے اور جو کچھ اس نے کہا ہے وہ کون سے دلائل ہیں۔وہ بجائے خود نرے دعوے ہی دعوے ہیں۔میں بار بار نہیں کہتا ہوں اور اس لئے مکر رسہ کر ر اس بات کو بیان کرتا ہوں کہ آپ سمجھ لیں کہ انجیل ہی کو یسوع کی خدائی کے رو کرنے کے لئے آپ پڑھیں۔وہ خود ہی کافی طور پر اس کی تردید کر رہی ہے۔ملفوظات جلد ۳ صفحه ۱۳۹،۱۳۸