مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 517 of 632

مسیحی انفاس — Page 517

۵۱۷ تھا جبکہ ہزاروں مردوں نے زندہ ہو کر حضرت عیسی علیہ السلام کی سچائی کی گواہی بھی دیدی اور یہ بھی کہہ دیا کہ ہم بہشت کو دیکھ آئے ہیں اس میں صرف عیسائی ہیں جو حضرت عیسی کے ماننے والے ہیں اور دوزخ کو دیکھا تو اس میں یہودی ہیں جو حضرت عیسیٰ کے منکر ہیں تو ان سب باتوں کے بعد کس کی مجال تھی کہ حضرت عیسی کی سچائی میں ذرا بھی شک کرتا اور اگر کوئی شکت کرتا تو ان کے باپ دادا جو زندہ ہو کر آئے تھے ان کو جان سے مارتے کہ اے ناپاک لوگو! ہماری گواہی اور پھر بھی شک۔پس یقینا سمجھو کہ ایسے معجزات محض بناوٹ ہے۔معجزہ سے نفس امر میں شک نہیں مگر وہ اسی قدر ہوتا ہے جیسا کہ آگے ہم تفصیل سے بیان کریں گے۔اس جگہ مسلمانوں پر نہایت افسوس ہے کہ وہ حضرت عیسی علیہ السّلام کی طرف ایسے مجربات منسوب کرتے ہیں جو قرآن شریف کی بیان کردہ سنت کے مخالف ہیں اور وہ راہ چلتے ہیں جس کا آگے کوچہ ہی بند ہے۔اور نہ صرف اس قدر کہ حضرت علیمی کی نسبت عیسائیوں کی پرانی کہانیوں پر ایمان لائے ہوئے ہیں بلکہ آئندہ کے لئے تمام دنیا سے الگ کسی وقت آسمان سے ان کا نازل ہونا مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آئندہ آخری زمانہ میں ( حالانکہ عمر دنیا کے رو سے جو سات ہزار ہے یہی آخری زمانہ ہے ( حضرت عیسی " آسمان سے فرشتوں کے ساتھ نازل ہوں گے اور ایک بڑا تماشا ہو گا اور لاکھوں آدمیوں کا ہجوم ہو گا اور آسمان کی طرف نظر ہوگی اور لوگ دور سے دیکھ کر کہیں گے کہ وہ آئے وہ آئے۔اور دمشق میں ایک سفید مینڈ کے قریب اتریں گے۔مگر تعجب کہ وہ غریب اور عاجز انسان جو اپنی نبوت ثابت کرنے کے لئے الیاس نبی کو دوبارہ دنیا میں نہ لاسکا یہاں تک کہ صلیب پر لٹکایا گیا۔اس کی نسبت ایسے ایسے کرشمے بیان کئے جاتے ہیں۔اگر یہ باتیں قبول کے لائق ہیں تو پھر کیوں حضرت سید عبد القادر جیلانی کی یہ کرامت جو لوگوں میں بہت مشہور ہو رہی ہے قبول نہیں کی جاتی کہ ایک کشتی جو مع برات دریا میں ڈوب گئی تھی انہوں نے بارہ برس کے بعد نکالی تھی اور سب لوگ زندہ تھے اور نقارے اور باجے ان کے ساتھ بج رہے تھے۔ایسا ہی یہ دوسری کرامت کہ ایک مرتبہ فرشتہ ملک الموت ان کے کسی مرید کی روح بغیر اجازت نکال کر لے گیا تھا انہوں نے اڑ کر آسمان پر اسکو جا پکڑا اور اس کی ٹانگ پر لاٹھی ماری اور ہڈی توڑ دی۔اور اس روز کی جس قدر رو میں نکالی گئی تھیں سب چھوڑ دیں اور وہ دوبارہ زندہ ہو گئیں۔فرشتہ روتا ہوا خدا تعالیٰ کے پاس گیا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عبد