مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 515 of 632

مسیحی انفاس — Page 515

۵۱۵ نادانوں اور سادہ لوحوں میں کہ جو بات کی تہ تک نہیں پہنچتے اور اصل حقیقت کو نہیں شناخت کر سکتے یہ مشہور کر دیا کہ ایک روح کی مدد سے ایسے ایسے کام کرتا ہوں۔بالخصوص جب کہ یہ بھی ثابت ہے کہ حضرت مسیح اسی حوض پر اکثر جایا بھی کرتے تھے تو اس خیال کو اور بھی قوت حاصل ہوتی ہے۔غرض مخالف کی نظر میں ایسے مجرموں ہے کہ جو قدیم سے حوض دکھلاتا رہا ہے حضرت عیسی کی نسبت بہت سے شکوک اور شبہات پیدا ہوتے ہیں اور اس بات کے ثبوت میں بہت سی مشکلات پڑتی ہیں کہ یہودیوں کی رائے کے موافق مسیح مکر اور شعبدہ باز نہیں تھا اور نیک چلن آدمی تھا جس نے اپنے عجائبات کے دکھلانے میں اس قدیمی حوض سے کچھ مدد نہیں لی اور سچ سچ معجزات ہی دکھائے ہیں۔اور اگر چہ قرآن شریف پر ایمان لانے کے بعد ان وساوس سے نجات حاصل ہو جاتی ہے۔مگر جو شخص ابھی قرآن شریف پر ایمان نہیں لا یا اور یہودی یا ہندویا عیسائی ہے وہ کیونکر ایسے وساوس سے نجات پاسکتا ہے اور کیونکر اس کا دل اطمینان پکڑ سکتا ہے کہ باوجود ایسے عجیب حوض کے جس میں ہزاروں لنگڑے اور لولے اور مادر زاد اندھے ایک ہی غوطہ مار کر اچھتے ہو جاتے تھے اور جو صد ہا سال سے اپنے خواص عجیبہ کے ساتھ یہودیوں اور اس ملک کے تمام لوگوں میں مشہور اور زبان زد ہورہاتھا اور بے شمار آدمی اس میں غوطہ مارنے سے شفا پاچکے تھے اور ہر روز پاتے تھے اور ہر وقت ایک میلہ اس پر لگارہتا تھا۔اور مسیح بھی اکثر اس حوض پر جایا کرتا تھا اور اس کی ان عجیب و غریب خاصیتوں سے باخبر تھا۔مگر پھر بھی مسیح نے ان معجزات کے دکھلانے میں جن کو قدیم سے حوض دکھلارہا تھا اسی حوض کی مٹی یا پانی سے کچھ مدد نہیں لی اور اس میں کچھ تصرف کر کے اپنا یا نسخہ نہیں نکالا۔بلاشبہ ایسا خیال بے دلیل بات ہے کہ جو مختلف کے روبرو کارگر نہیں اور بلار سیب اس حوض عجیب الصفات کے وجود پر خیال کرنے مسیح کی حالت پر بہت سے اعتراضات عاید ہوتے ہیں جو کسی طرح اٹھ نہیں سکتے اور جس قدر غور کرواسی قدر دار و گیر بڑھتی ہے اور مسیحی جماعت کے لئے کوئی راستہ مخلصی کا نظر نہیں آتا کیونکہ دنیا کی موجودہ حالت کو دیکھ کر یہ وساوس اور بھی زیادہ تقویت پکڑتے ہیں اور بہت سی نظیریں ایسے ہی مکروں اور فریبوں کے اپنی ہی قوت حافظہ پیش کرتی ہے بلکہ ہر یک انسان ان مکروں کے بارے میں چشم دید باتوں کا ایک ذخیرہ رکھتا ہے۔براہین احمدیہ۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۵۱۵ تا۵۴۶