مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 493 of 632

مسیحی انفاس — Page 493

۴۹۳ کے خوف سے اس کا دل نہایت غمگین ہوا۔یہاں تک کہ اس کی موت کی سی حالت ہو گئی۔تمام رات جاگتا رہا دعا کرتا رہا۔سجدے کرتا رہا۔روتا رہا بلکہ دوسروں سے بھی دعا کر اتا رہا کہ شاید میری نہیں تو انہیں کی دعا منظور ہو جائے۔اپنی عزیز جان بچانے کے لئے کیا کچھ بے قراریاں کیں اور اس چند روزہ زندگی کے لئے کس قدر بیتابی ظاہر کی۔آخر جب دیکھا کہ بات بنتی نظر نہیں آتی تو کہہ دیا کہ اگر ہو سکے تو یہ پیالہ مجھ سے گذر جائے، تو بھی میری خواہش نہیں بلکہ تیری خواہش کے مطابق مگر مارے سخت بے قراری کے اس رضا جوئی کے فقرہ پر بھی قائم نہ رہ سکا۔آخر موت کے وقت رب جلیل کی شکایت شروع کر دی اور کہا کہ اے میرے خدا، اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔اب دیکھو کہاں گئی وہ رضا جوئی۔اگر مسیح باوجود ایسی دعا کے جو جان کی گدازش سے کی گئی تھی پھر بھی در حقیقت سولی مل گیا تو ایسا شخص کسی طور سے نبی نہیں ہو سکتا۔حاشا و کلا کیونکہ تمام نبی اضطرار کے وقت میں مستجاب الدعوات ہوتے ہیں۔یہ کیسا نبی تھا کہ اضطرار کے وقت اس کی دعاسنی نہ گئی۔اور اگر وہ سولی نہیں ملا تو سچا نبی ہے اور ایسے ہی کی قرآن کریم نے تصدیق کی ہے اور توریت بھی یہی ظاہر کرتی ہے۔بہر حال اگر مسیح کی وہ دعا منظور ہو گئی ہے اور وہ صلیب سے بچ گیا ہے تو اعتقاد صلیب اور کفارہ باطل۔اور اگر ایسے اضطرار کے وقت کی دعا بھی منظور نہیں ہوئی اور صلیب نصیب ہو گئی تو نبوۃ باطل۔تعجب کہ بائبل میں یہ قصہ موجود ہے کہ ایک بادشاہ کی پندرہ دن عمر رہ گئی تھی اور جب نبی کی معرفت اس کو خبر دی گئی تو وہ تمام رات دعا کر تا رہا تو خدا تعالیٰ نے اپنی تقدیر کو اس کے لئے بدل دیا اور دعا کو منظور کر لیا اور پندرہ دن کو پندرہ سال کے ساتھ بدل دیا۔مگر مسیح کی تمام رات کی دعا باوجود اس قدر دعوؤں کے منظور نہ ہوئی۔تعجب کہ کسی پادری صاحب کو سچی حقیقت کی طرف توجہ نہیں اور ان کا کا ئنننس ایک دم کے لئے بھی ان کو ملزم نہیں کرتا کہ وہ شخص جس کی دعا کی حالت ایک بادشاہ کی دعا کی حالت سے بھی گری ہوئی ہے وہ کیونکر سچا نبی ٹھہر سکتا ہے اور اس کی حقیقت تو اس قصہ سے بدیہی طور پر معلوم ہو چکی۔حاشیہ اشتہار ۲۷ مئی ۱۸۹۴ ء۔مجموعہ اشتہارات - جلد ۲ صفحه ۹ تا ۱۳