مسیحی انفاس — Page 492
یہی اعتراض پیش ہو گا کہ اگر مسیح سچا نبی تھا تو اس کی دعا ایسے اضطراب کے وقت میں جس سے موت کی سی حالت اس پر طاری تھی کیوں قبول نہ ہوئی اور اس عذر کا بیہودہ ہوتا تو ظاہر ہو چکا کہ مسیح نے الہی روح کے ساتھ دعا نہیں کی تھی بلکہ انسانی روح کے ساتھ کی تھی اس لئے رو ہو گئی۔مسیح نے تو باپ باپ کر کے بہتیرا پکارا اور اپنا بیٹا ہوتا جتلایا مگر باپ نے اس طرف رخ نہ کیا۔اگر شک ہو تو آپ انجیل متی کھول کر ۳۹۲ میں یہ آیت پڑھ لو۔اور کچھ آگے بڑھ کے منہ کے بل گرا اور دعا مانگتے ہوئے کہا اے میرے باپ اگر ہو سکے تو یہ پیالہ مجھ سے گذر جائے۔عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ مسیح خدا تعالیٰ کو الہی روح کے لحاظ سے باپ کہتا تھا۔پس اس سے ثابت ہوا کہ یہ دعا اقنوم ابن کی طرف سے تھی تبھی تو باپ کر کے پکار انگر باپ نے پھر بھی منظور نہ کی۔تعجب کہ مسیح کا انجیل میں یہ بھی ایک قول ہے کہ مجھے کل اختیار دیا گیا۔مگر کیا خاک اختیار دیا گیا۔ایک دعا بھی تو منظور نہ ہوئی۔اور جب مسیح کی اپنی ہی دعا منظور نہ ہوئی تو اس کا شاگردوں کو یہ کہنا کہ تمہاری دعائیں منظور ہوتی رہیں گی اور کوئی بات انہونی نہ ہوگی کس قدر بے معنی معلوم ہوتی ہے۔بعض کہتے ہیں کہ مسیح نے خدا تعالیٰ کی تقدیر کو منظور کر لیا اس لئے دعا منظور نہ ہوئی۔یہ بالکل بیہودہ جواب ہے۔مسیح نے تو سولی پر چڑھ کر بھی یہی کہا کہ ایلی ایلی لما سبقتنی یعنی اے میرے خدا! اے میرے خدا! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔یہ اس کی طرف اشارہ تھا کہ تو نے میری خواہش کے مطابق کیوں نہ کیا اور میری دعا کیوں قبول نہ کی۔اور یہ سوال کہ آخری وقت میں مسیح نے ایلی اپلی کیوں کہا ابی ابی کیوں نہ کہا۔اس کا یہی جواب ہے کہ وہ کلمہ محبت کا تھا اور یہ کلمہ خوف کا۔اسلئے اس وقت مسیح مارے خوف عظمت الہی کے ابی ابی بھول گیا اور ایلی ایلی یاد آگیا اور بے نیازی الہی کی ایک متجلی دیکھی اور عاجزی شروع کر دی۔انسان بے بنیاد کی یہی حالت ہے۔جلالی تجلیات کی برداشت نہیں کر سکتا۔مسیح کا راضی بقضا ہوتا اس وقت تسلیم کیا جاتا کہ جب اس کو موت اور زندگی کا اختیار دیا جاتا اور یہ کہا جاتا کہ ہماری مرضی تو یہ ہے کہ تجھ کو سولی دے دیں۔لیکن اگر تو چاہے تو تجھ کو بچائیں۔لیکن یہ واقعہ تو ایسا نہیں ہے بلکہ مسیح نے اپنے افعال سے ظاہر کر دیا کہ وہ بدل و جان یہی چاہتا تھا کہ وہ سولی سے بچ جائے۔اس نے دعا کرنے میں کوئی کسر نہ کی اور کوئی دقیقہ اٹھانہ رکھا اور سولی ۴۹۲