مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 482 of 632

مسیحی انفاس — Page 482

طرح جناب مقدس کے پاؤں دھویا کروں۔مگر ایک خبیث اور پلید دل باد ایران کے فرمانروا نے غصہ میں آکر آپ کے پکڑنے کے لئے سپاہی بھیج دیئے۔وہ شام کے قریب پہنچے اور کہا کہ ہمیں گرفتاری کا حکم ہے۔آپ نے اس بیہودہ بات سے اعراض کر کے فرمایا تم اسلام قبول کرو اس وقت آپ صرف دو چار اصحاب کے ساتھ مسجد میں بیٹھے تھے مگر ربانی رعب سے وہ دونوں بید کی طرح کانپ رہے تھے۔آخر انہوں نے کہا کہ ہمارے خداوند کے حکم یعنی گرفتاری کی نسبت جناب عالی کا کیا جواب ہے کہ ہم جواب ہی لے جائیں۔حضرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا کل تمہیں جواب ملے گا۔صبح کو جو وہ حاضر ہوئے تو آنجناب نے فرمایا کہ وہ جسے تم خداوند خداوند کہتے ہو۔وہ خداوند نہیں ہے خداوند وہ ہے جس پر موت اور فتاطاری نہیں ہوتی۔مگر تمہار ا نداوند آج رات کو مارا گیا۔میرے بچے خداوند نے اس کے بیٹے شیرویہ کو اس پر مسلط کر دیا۔سودہ آج رات اس کے ہاتھ سے قتل ہو گیا اور یہی جواب ہے۔یہ بڑا معجزہ تھا۔اس کو دیکھ کر اس ملک کے ہزار ہا لوگ ایمان لائے۔کیونکہ اسی رات در حقیقت خسرو پرویز یعنی کسری مارا گیا تھا۔اور یاد رکھنا چاہئے کہ یہ بیان انجیلوں کی بے سروپا اور بے اصل باتوں کی طرح نہیں بلکہ احادیث صحیحہ اور تاریخی ثبوت اور مخالفوں کے اقرار سے ثابت ہے۔چنانچہ ڈیونیورٹ صاحب بھی اس قضیہ کو اپنی کتاب میں لکھتا ہے لیکن اس وقت کے بادشاہوں کے سامنے حضرت مسیح کی جو عزت تھی وہ آپ پر پوشیدہ نہیں۔وہ اوراق شاید اب تک انجیل میں موجود ہوں گے جن میں لکھا ہے کہ ہیرودیس نے حضرت مسیح کو مجرموں کی طرح پلا طوس کی طرف چلان کیا۔اور وہ ایک مدت تک شاہی حوالات میں رہے۔کچھ بھی خدائی پیش نہیں گئی۔اور کسی بادشاہ نے یہ نہ کہا کہ میرا نخر ہو گا اگر میں اس کی خدمت میں رہوں۔اور اس کے پاؤں دھویا کروں۔بلکہ پلاطوس نے یہودیوں کے حوالہ کر دیا۔کیا یہی خدائی تھی۔عجیب مقابلہ ہے۔دو شخصوں کو ایک ہی قسم کے واقعات پیش آئے اور دونوں نتیجہ میں ایک دوسرے سے بالکل ممتاز ثابت ہوتے ہیں۔ایک شخص کے گرفتار کرنے کو ایک متکبر جبار کا شیطان کے وسوسہ سے برا انگیخته ہوتا اور خود آخر لعنت الہی میں گرفتار ہو کر اپنے بیٹے کے ہاتھ سے بڑی ذلت کے ساتھ قتل کیا جاتا اور ایک دوسرا انسان جسے قطع نظر اپنے اصلی دعووں کے غلو کرنے والوں نے ۴۸۲