مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 481 of 632

مسیحی انفاس — Page 481

۴۸۱ آنحضرت کے دس ساتھ ہی تھا مگر روح القدس نے یہ اطلاع نہ دی کہ اس وقت انجیر پر کو ت انجیر پرکوئی پھل نہیں۔بائیں لاکھ کے قریب قبل و ہمہ یہ سب لوگ جانتے ہیں کہ شاذ و نادر معدوم کے حکم میں ہوتا ہے پس جس حالت فعل میں سراسر خدائی کا میں ہمارے سید و مولی محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے دس لاکھ کے قریب قول و فعل می جلی نظر آتا ہے میں سراسر خدائی کا ہی جلوہ نظر آتا ہے اور ہر بات میں حرکات میں سکنات میں اقوال میں افعال میں روح القدس کے چمکتے ہوئے انوار نظر آتے ہیں تو پھر اگر ایک آدھ بات میں بشریت کی بھی بُو آوے تو اس سے کیا نقصان۔بلکہ ضرور تھا کہ بشریت کے تحقق کے لئے کبھی کبھی ایسا بھی ہو تا تالوگ شرک کی بلا میں مبتلا نہ ہو جائیں۔آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۱۰، ۱۱۶ - حضرت مسیح ایک بار چھوڑ ہزار بار کہیں کہ میں خدا ہوں لیکن کون ان کی خدائی کا اعتراف کر سکتا ہے جبکہ انسانیت کا اقبال بھی اس کے وجود میں نظر نہیں آتا۔دشمنوں گورنمنٹ کا سلوک اور کے نرغہ میں آپ پچھن جاتے ہیں اور ان سے طمانچے کھاتے ہوئے صلیب پر لٹکائے ربانی رعب جاتے ہیں باوجودیکہ وہ طعن کرتے ہیں کہ اگر تو خدا کا بیٹا ہے تو صلیب سے اتر آ۔عمر آپ خاموش ہیں اور کوئی خدائی کا کرشمہ نہیں دکھاتے۔برخلاف اس کے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے خلاف خسرو پرویز نے منصوبہ کیا اور آپ کو گرفتار کر کے قتل کرنا چاہا۔مگر اس رات خود ہی ہلاک ہو گیا۔اور ادھر حضرت مسیح کو ایک معمولی چپراسی پکڑ کر لے جاتا ہے۔تائید الہی کا کوئی پتہ نہیں ملا۔لمفوظات جلد ۳ صفحه ۳۶۵ جب ہم حضرت مسیح اور جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا اس بات میں مقابلہ کرتے ہیں کہ موجودہ گورنمنٹوں نے ان کے ساتھ کیا برتاؤ کیا اور کس قدر ان کے ربانی حکومت وقت کا برتاؤ رعب اور یا تائید الہی نے اثر دکھایا۔تو ہمیں اقرار کرنا پڑتا ہے کہ حضرت مسیح میں بمقابلہ اور ربانی رحب و تائید الہی میں موازنہ جناب مقدس نبوی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدائی تو کیا نبوت کی شان بھی پائی نہیں جاتی۔جناب مقدس نبوی کے جب پادشاہوں کے نام فرمان جاری ہوئے تو قیصر روم نے آہ کھینچ کر کہا کہ میں تو عیسائیوں کے پنجہ میں مبتلا ہوں۔کاش اگر مجھے اس جگہ سے نکلنے کی گنجائش ہوتی تو میں اپنا فخر سمجھتا کہ خدمت میں حاضر ہو جاؤں اور غلاموں کی