مسیحی انفاس — Page 471
حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۵۶ طحال بمقابلہ مسیح کے یہ کیسی بدیہی اور صاف بات ہے کہ ایک طبیب اگر نا قابل علاج مریضوں کو اچھا کر دے تو اس کو طبیب حاذق ماننا پڑے گا۔اور جو اس پر بھی اس کی حذاقت کا اقرار نہ کرے اس کو بجز احمق اور نادان کے اور کیا کہیں گے۔اسی طرح پر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے لاکھوں مریضانِ گناہ کو اچھا کیا۔حالانکہ ان مریضوں میں آنحضرت کی قوت سے ہر ایک بجائے خود ہزار ہا قسم کی روحانی بیماریوں کا مجموعہ اور مریض تھا۔جیسے کوئی قدسیہ کا کمال بیمار کہے۔سردرد بھی ہے۔نزول ہے۔استقاء ہے۔وجع المفاصل ہے۔ہے وغیرہ وغیرہ تو جو طبیب ایسے مریض کا علاج کرتا ہے اور اس کو تندرست بنا دیتا ہے۔اس کی تشخیص اور علاج کو صحیح اور حکمی ماننے کے سوا چارہ نہیں ہے۔ایسا ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن کو اچھا کیا۔ان میں ہزاروں روحانی امراض تھے۔جس جس قدر ان کی کمزوریوں اور گناہ کی حالتوں کا تصور کر کے پھر ان کی اسلامی حالت میں تغیر اور تبدیلی کو ہم دیکھتے ہیں۔اسی قدر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور قوت قدسی کا اقرار کرنا پڑتا ہے۔ضد اور تعصب ایک الگ امر ہے جو اپنی تاریکی کی وجہ سے سچائی کے نور کو دیکھنے کی قوت کو سلب کر دیتا ہے۔لیکن اگر کوئی دل انصاف سے خالی نہیں اور کوئی سر عقل صحیح سے حصہ رکھنے والا ہے تو اس کو صاف اقرار کرنا پڑے گا کہ آپ سے بڑھ کر عظیم الشان پاکیزگی کی طرف تبدیلی کرا دینے والا انسان دنیا میں نہیں گزرا۔اللہم صل علی محمد و آلہ اب بالمقابل ہم پوچھتے ہیں کہ مسیح نے کس کا علاج کیا ؟ انہوں نے اپنی روحانیت اور عقید ہمت اور قوت قدسی کا کیا کرشمہ دکھایا ؟ زبانی باتیں بنانے سے تو کچھ فائدہ نہیں جب تک عملی رنگ میں ان کا نمونہ نہ دکھایا جاوے۔جب کہ اس قدر مبالغہ ان کی شان میں کیا گیا ہے کہ بائیں ضعف و ناتوانی ان کو خدا کا منصب دے دیا گیا ہے۔تو چاہئے تو یہ تھا کہ ان کی عام رحمت اپنا اثر دکھاتی اور اقتداری قوت کوئی نیا نمونہ پیش کرتی کہ گناہ کی زندگی پر دنیا میں موت آجاتی اور فرشتوں کی زندگی بسر کرنے والوں سے دنیا معمور ہو جاتی۔مگر یہ کیا ہو گیا کہ چند خاص آدمی بھی جو آپ کی صحبت میں ہمیشہ رہتے تھے۔درست نہ ہو