مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 470 of 632

مسیحی انفاس — Page 470

۴۷۰ ۳۲۲ موازنه معلوم ہو جائے گا کہ کسی تعلیم نے قوتِ ایمانی کو انتہا تک پہنچا دیا ہے۔یہاں تک کہ لوگوں نے اس تعلیم کی محبت سے اور رسول کے عشق سے اپنے وطنوں کو بڑی خوشی سے چھوڑ دیا۔اپنے آراموں کو بڑی راحت کے ساتھ ترک کر دیا۔اپنی جانوں کو فدا کر دیا۔اپنے خونوں کو اس راہ میں بہا دیا اور کس تعلیم کا یہ حال ہے۔اس رسول کو یعنی حضرت مسیح کو جب یہودیوں نے پکڑا تو واری ایک منٹ کے لئے بھی نہ ٹھہر سکے اپنی اپنی راہ لی اور بعض نے تیس روپیہ لے کر اپنے نبی مقبول کو بیچ دیا۔اور بعض نے تین دفعہ انکار کی اور انجیل کھول کر دیکھ لو کہ اس نے لعنت بھیج کر اور قسم کھا کر کہا کہ اس شخص کو نہیں جانتا۔پھر جب کہ ابتدا سے زمانہ کا یہ حال تھا۔یہاں تک کہ تجہیز و تکفین تک میں بھی شریک نہ ہوئے۔تو پھر اس زمانہ کا کیا حال ہو گا جب کہ حضرت مسیح آن میں موجود نہ رہے۔مجھے زیادہ لکھانے کی ضرورت نہیں۔اس بارہ میں بڑے بڑے علماء عیسائیوں نے اسی زمانہ میں گواہی دی ہے کہ حواریوں کی حالت صحابہ کی حالت سے جس وقت ہم مقابلہ کرتے ہیں تو ہمیں شرمندگی کے ساتھ اقرار کرنا پڑتا ہے کہ حواریوں کی حالت ان کے مقابل پر ایک قابل شرم عمل تھا۔جنگ مقدس۔روحانی خزائن جلد 4 صفحہ ۲۸۹ ، ۲۹۰ خدا نے پانی کو پیاس بجھانے کے لئے پیدا کیا اس لئے آگ اس کے قائم مقام معرفت کے لحاظ سے نہیں ہو سکتی۔انسانی سرشت بہت سی شاخوں پر مشتمل ہے۔اور کئی مختلف قوتیں خدا نے اس میں رکھتی ہیں۔لیکن انجیل نے صرف ایک ہی قوت عفو اور در گذر زور دیا ہے۔گویا انسانی درخت کی صدہا شاخوں میں سے صرف ایک شاخ انجیل کے ہاتھ میں ہے۔پس اس سے حضرت عیسی کی معرفت کی حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ وہ کہاں تک ہے۔لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت انسانی فطرت کے انتہا تک پہنچی ہوتی ہے۔اس لئے قرآن شریف کامل نازل ہوا۔اور یہ کچھ پرا ماننے کی بات نہیں۔اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ فَضَّلْنَا بَعضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ یعنی بعض نبیوں کو ہم نے بعض پر فضیلت دی ہے۔پر