مسیحی انفاس — Page 466
بندوں کی بھلائی کے لئے جان دینا یا جان دینے کے لئے مستعد ہونا ایک اعلیٰ اخلاقی حالت ہے لیکن سخت حماقت ہوگی کہ خود کشی کی بے جا حرکت کو اس مد میں داخل کیا جائے۔ایسی خود کشی تو سخت حرام ہے اور نادانوں اور بے صبروں کا کام ہے۔ہاں جاں فشانی کا پسندیدہ طریق اس کامل مصلح کی لائف میں چمک رہا ہے جس کا نام محمد مصطفے صلی وسلم ہے۔اللہ علیہ و نور القرآن۔حصہ اول۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۶۴ تا ۳۶۸ حاشیه عرب اور دنیا کی حالت جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے کسی سے پوشیدہ نہیں۔بالکل وحشی لوگ تھے کھانے پینے کے سوا کچھ نہ جانتے تھے۔نہ حقوق العباد سے تاثیرات تعلیم کے لحاظ آشنانہ حقوق اللہ سے آگاہ چنانچہ خدا تعالیٰ نے ایک جگہ ان کا نقشہ کھینچ کر بتلایا۔کہ ت يَأكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الْأَنْعَمُ۔پھر رسول اللہ صلی اللہ سے موازنہ (۱) علیہ وسلم کی پاک تعلیم نے ایسا اثر کیا يَبيثُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِيما کی حالت ہو گئی۔یعنی اپنے رب کی یاد میں راتیں سجدے اور قیام میں گزار دیتے تھے اللہ اللہ کس قدر فضیلت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سبب سے ایک بینظیر انقلاب اور عظیم الشان تبدیلی واقع ہو گئی۔حقوق العباد اور حقوق اللہ دونوں کو میزان عتدال پر قائم کر دیا اور دار اور اور مرد و کوی کالی اور ایک زندہ اور پاکیزہ قوم بنا دیا۔دونوں ہی خوبیاں ہوتی ہیں۔علمی یا عملی۔عملی حالت کا تو یہ حال ون لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَ قِيَما اور علمی کا یہ حال کہ اس قدر کثرت سے تصنیفات کا سلسلہ اور توسیع زبان کی خدمت کا سلسلہ جاری ہے کہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔دوسری طرف جب عیسائیوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے حیران ہی ہونا پڑتا ہے کہ حواریوں نے یائی ہو کر کیاتری کی۔یہودا اسکر یوطی وسیع کا خزانچی تھا۔کبھی کبھی تلک بھی کر لیا کرتا تھا۔اور تمہیں روپے لے کر استاد کو پکڑوانا تو اس کا ظاہر ہی ہے۔یسوع کی تھیلی میں دو ہزار روپے رہا کرتے تھے۔ایک طرف تو ان کا یہ حال ہے کہ بالمقابل رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ حال ہے کہ بوقت وفات پوچھا کہ گھر میں کچھ ہے۔جناب عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ایک دینار ہے۔حضور نے فرمایا کہ اسے تقسیم کر دو۔کیا یہ ہو سکتا