مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 465 of 632

مسیحی انفاس — Page 465

۴۶۵ کہ اپنے اس خیال کی تائید میں ویساہی ثبوت دیں جیسا کہ قرآن کریم ان کے مخالف ثبوت دیتا ہے یعنی فرماتا ہے کہ أَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا اور ان سب کو مردے قرار دے کر ان کا زندہ کیا جاتا محض اپنی طرف منسوب کرتا ہے اور جابجا کہتا ہے کہ وہ ضلالت کی زنجیروں میں پھنسے ہوئے تھے۔ہم نے ہی ان کو رہائی دی وہ اندھے تھے ہم نے ہی ان کو سو جا کھا کیا۔وہ تاریکی میں تھے ہم نے ہی نور بخشا اور یہ باتیں پوشیدہ نہیں تھیں بلکہ قرآن ان سب کے کانوں تک پہنچا اور انہوں نے ان بیانات کا نگر نہ کیا۔اور کبھی یہ ظاہر نہ کیا کہ ہم تو پہلے ہی مستعد تھے قرآن کا ہم پر کچھ احسان نہیں۔پس اگر ہمارے مخالفوں کے پاس کوئی مخالفانہ تحریر اپنے بیان کی تائید میں ایسی ہو جو قرآن کریم کے ہم پہلو تیرہ سو برس سے چلی آتی ہے تو وہ پیش کر دیں ورنہ ایسی باتیں صرف عیسائی سرشت کا افتراء ہے اس سے زیادہ نہیں۔یہ تو جیمس کا قول ہے جو کتاب مذاہب عالم میں شائع ہوئی ہے۔مگر بعض عیسائی پادریوں نے اس سے بھی بڑھ کر حقیقت فہمی کا جوہر دکھلایا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ در حقیقت اصلاح کچھ چیزہی نہیں اور نہ کبھی کسی کی اصلاح ہوئی۔توریت کی تعلیم اصلاح کے لئے نہیں تھی۔بلکہ اس ایما کے لئے کہ گناہگار انسان خدا کے احکام پر چل نہیں سکتا اور انجیل کی تعلیم بھی اسی مدعا سے تھی۔ورنہ طمانچہ کھا کر دوسری کال کبھی پھیر دیا نہ کبھی ہوانہ ہو گا۔اور کہتے ہیں کہ کیا مسیح کوئی جدید تعلیم لے کر آیا تھا۔اور پھر آپ ہی جواب دیتے ہیں کہ انجیل کی تعلیم تو پہلے ہی سے توریت میں موجود تھی۔اور بائبل کے متفرق مقامات جمع کرنے سے انجیل بن جاتی ہے۔پھر مسیح کیوں آیا تھا؟ اس کا جواب دیتے ہیں کہ صرف خود کشی کے لئے۔مگر تعجب کہ خود کشی سے بھی مسیح نے جی چرایا اور ایلی ایلی نما سبقتی منہ پر لایا۔پھر یہ بھی تعجب ہے کا مقام کہ زید کی خود کشی سے بکر کو کیا حاصل ہو گا۔اگر کسی کا کوئی عزیز اس کے گھر میں بیمار ہو اور وہ اس کے غم سے چھری بارلے تو کیا وہ عزیز اس نابکار حرکت سے اچھا ہو جائے گا۔یا اگر مثلاً کسی کے بیٹے کو درد قولنج ہے تو اس کا باپ اس کے غم میں اپنا سر پتھر سے پھوڑ لے تو کیا اس احمقانہ حرکت سے بیٹا اچھا ہو جائے گا۔اور یہ بھی سمجھ نہیں آتا کہ زید کوئی گنہ کرے اور بکر کو اس کے عوض سولی پر کھینچا جائے۔یہ عدل ہے یار تم۔کوئی عیسائی ہم کو بتلا دے ہم اس کے اقراری ہیں کہ خدا کے