مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 443 of 632

مسیحی انفاس — Page 443

اس وجہ سے کہ یہ لوگ علم عربیت سے محض ناواقف اور بے بہرہ ہیں۔اس لئے ان کو کچھ بھی استعداد نہیں کہ قرآن کے الفاظ سے اس کے صحیح معنے سمجھ سکیں اور شرارت یہ کہ یہ آیت صریح بتلا رہی ہے کہ اس میں انجیل کی طرح صرف ایک ہی پہلو در گذر اور عفو پر زور نہیں دیا گیا بلکہ انتقام کو تو حکم کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔اور عفو کی جگہ صبر کا لفظ ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے جو سزا دینے میں جلدی نہیں چاہتے۔اور عفو کرنے کے لئے کوئی حکم نہیں دیا۔مگر پھر بھی ٹھاکر داس صاحب نے دانستہ اپنی آنکھ بند کر کے خواہ نخواہ قرآن شریف کی کامل تعلیم کو انجیل کی ناقص اور علمی تعلیم کے ساتھ مشابہت دینا چاہا ہے۔ناظرین یا درکھیں کہ قرآن شریف کی آیت جس کا غلط ترجمہ ٹھاکر داس صاحب نے پیش کیا ہے، یہ ہے۔وَإِنْ عَاقَتُمْ فَعَاقِبُواْ بِمِثْلِ مَا عُو قِبْتُم بِهِ وَلَبِن صَبَرتُم لَهُوَ خَيْرُ للصف بِرين یعنی اگر تم ایذاء کے بدلے ایزاد و تو اسی قدر دو جس قدر تم کو ایزاد یا گیا اور اگر صبر کرو تو صبر کرنا ان کے لئے بہتر ہے جو سزا دینے میں دلیر ہیں اور اندازہ اور حد سے گذر جاتے ہیں اور بدر فتار ہیں یعنی محل اور موقعہ کو شناخت نہیں کر سکتے۔الصابرین میں جو صبر کا لفظ ہے اس کے یہ معنی ہیں کہ بے تحقیق اور بے محل سزا دینا۔اسی وجہ سے آیت میں خدائے تعالیٰ نے یہ نہ فرمایا لهو خير لكم بلکہ فرمایا لهو خير للصباب میں تا اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ اس جگہ لفظ صبر کے وہ معنی نہیں ہیں جو پہلے لفظ میں ہیں۔اور اگر وہی معنی ہوتے تو بجائے لکم کے للصبریں رکھنا بے معنی اور بلاغت کے برخلاف ہوتا۔لغت عرب میں جیسا کہ صبر رو کنے کو کہتے ہیں۔ایسا ہی بیجا دلیری اور بدرفتاری بے تحقیق کسی کام کرنے کو کہتے ہیں۔اب ناظرین سوچ لیں کہ اس آیت کا صرف یہ مطلب ہے کہ ہر ایک مومن پریہ بات فرض کی گئی ہے کہ وہ اسی قدر انتقام لے جس قدر اس کو دکھ دیا گیا ہے۔لیکن اگر وہ صبر کرے یعنی سزا دینے میں جلدی نہ کرے تو ان لوگوں کے لئے صبر بہتر ہے جن کی عادت چالاکی اور بدرفتاری اور بد استعمالی ہے یعنی جو لوگ اپنے محل پر سزا نہیں دیتے بلکہ ایسے لوگوں سے بھی انتقام لیتے ہیں کہ اگر ان سے احسان کیا جائے تو وہ اصلاح پذیر م م