مسیحی انفاس — Page 435
۴۳۵ کی ہیں۔پس یادر ہے کہ انسان میں کوئی بھی قوت بری نہیں ہے۔بلکہ ان کی بد استعمالی بری ہے۔سوانجیل کی تعلیم نہایت ناقص ہے۔جس میں ایک ہی پہلو پر زور دیا گیا ہے۔علاوہ اس کے دعوی تو ایسی تعلیم کا ہے کہ ایک طرف طمانچہ کھا کر دوسری بھی پھیر دیں۔مگر اس دعوے کے مطابق عمل نہیں ہے۔مثلاً اگر ایک پادری صاحب کو کوئی طمانچہ مار کر دیکھ لے کہ پھر عدالت کے ذریعہ سے وہ کیا کاروائی کراتے ہیں۔پس یہ تعلیم کس کام کی ہے جس پر نہ عدالتیں چل سکتی ہیں نہ پادری چل سکتے ہیں۔اصل تعلیم قرآن شریف کی ہے جو حکمت اور موقعہ شناسی پر مبنی ہے۔مثلاً انجیل نے تو یہ کہا ہے کہ ہر وقت تم لوگوں کے طمانچے کھاو۔اور کسی حالت میں سترہ کا مقابلہ نہ کرو۔مگر قرآن شریف اس کے مقابل پر یہ کہتا ہے۔جَزَ ا و ا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ یعنی اگر کوئی تمہیں دکھ پہنچاوے مثلاً دانت توڑ دے۔یا آنکھ پھوڑ دے تو اس کی سزا اسی قدر بدی ہے جو اس نے کی۔لیکن اگر تم ایسی صورت میں گناہ معاف کر دو کہ اس معافی کا کوئی نتیجہ پیدا ہو اور اس سے کوئی اصلاح ہو سکے۔یعنی مثلاً مجرم آئندہ اس عادت سے باز آجائے تو اس صورت میں معاف کرنا ہی بہتر ہے اور اس اور اس معاف کرنے کا خدا سے اجر ملے گا۔اب دیکھو۔اس آیت میں دونوں پہلو کی رعایت رکھی گئی ہے اور عفو اور انتقام کو مصلحت وقت سے وابستہ کر دیا گیا ہے۔سو یہی حکیمانہ مسلک ہے۔جس پر نظام عالم کا چل رہا ہے۔رعایت محل اور وقت سے گرم اور سرد دونوں کا استعمال کرنا نہیں عظمندی ہے۔جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ ہم ایک ہی قسم کی غذا پر ہمیشہ زور نہیں ڈال سکتے۔بلکہ حسب موقعہ گرم اور سرد غذائیں بدلتے رہتے ہیں۔اور جاڑے اور گرمی کے وقتوں میں کپڑے بھی مناسب حال بدلتے رہتے ہیں۔تیس اسی طرح ہماری اخلاقی حالت بھی حسب موقع تبدیلی کو چاہتی ہے۔ایک وقت رعب دکھلانے کا مقام ہوتا ہے۔وہاں نرمی اور در گذر سے کام بگڑتا ہے۔اور دوسرے وقت نرمی اور تواضع کا موقع ہوتا ہے۔اور وہاں رعب دکھلانا سفلہ بین سمجھا جاتا ہے۔غرض ہر ایک وقت اور ہر ایک مقام ایک بات کو چاہتا ہے۔پس جو شخص رعایت مصالح اوقات نہیں کرتا۔وہ حیوان ہے۔نہ انسان۔اور وہ وحشی ہے نہ مہذب۔