مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 428 of 632

مسیحی انفاس — Page 428

۴۲۸ ۲۹۸ می بعض نا واقف عیسائی بوجہ اپنی نہایت سادہ لوحی کے کبھی کبھی یہ دعوی ن کر بیٹھتے ہیں کہ انجیل بھی اپنی تعلیم کے رو سے بے مثل و مانند ہے۔یعنی انسان اس کی مثل بنانے پر قادر نہیں۔پس اس سے ثابت ہے کہ تعلیم اس کی خدا کا کلام ہے اور انجیل کی تعلیم کا بے مثل و مانند ہوتا اس طرح پر بیان کرتے ہیں کہ اس میں عفو اور در گذر اور نیکی اور خود در گذری تعلیم احسان کے لئے بہت سی تاکید ہے۔اور ہر یک جگہ شر کے مقابلہ سے منع کیا ہے۔بلکہ کا مطلب یہ نہیں کہ انجیل بے محل مانند بدی کے عوض نیکی کرنا لکھا ہے۔اور ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری گال بھی پھیر دینے کا حکم ہے۔پس اس دلیل سے ثابت ہو گیا کہ وہ بے مثل و مانند اور انسانی طاقتوں سے برتر ہے۔لاحول ولاقوق - اے حضرات ! یہ منطق آپ کہاں سے لائے۔جس ہے آپ یہ سمجھ بیٹھے کہ جن نصیحتوں میں علم اور در گذر کی تاکید مزید ہوہ بے نظیر ہو جایا کرتی ہیں۔اور قومی بشریہ ایسی نصیحتوں کے بیان کرنے سے قاصر ہوتی ہیں۔یہی تو سمجھ کا پھیر ہے کہ اب تک آپ کو یہ بھی خبر نہیں کہ بے مثل و مانند کا لفظ کسی شے کی نسبت صرف انہیں حالتوں میں بولا جاتا ہے کہ جب وہ شے اپنی ذات میں ایسے مرتبہ پر واقعہ ہو کہ جس کی نظیر پیش کرنے سے انسانی طاقتیں عاجز رہ جائیں۔آپ اپنے دعوی میں بار بار اسی بات پر زور دیتے ہیں کہ انجیل میں ہر جگہ اور ہر موقعہ میں عفو اور در گذر کرنے کے لئے تاکید ہے۔اور ایسی تاکید کسی دوسری کتاب میں نہیں۔بھلا بہت خوب یوں ہی سہی۔مگر کیا اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ اس قدر تاکید انسان نہیں کر سکتا۔اور انسانی قوتیں ان تاکیدوں کے بیان کرنے سے قاصر ہیں۔کیارحم اور عفو کی تاکید بت پرستوں کے پستکوں میں کچھ کم ہے۔بلکہ سچ پوچھو تو آریہ قوم کے بت پرستوں نے رحم کی تاکید کو اس کمال تک پہنچایا ہے کہ بس حد ہی کر دی۔ان کے ایک شاستر کا اشلوک اس وقت ہم کو یاد آیا انجیل کی اس تعلیم ہے۔جس پر تقریباً سارے ہندووں کا عمل ہے اور وہ یہ ہے۔اہنسا برمو سے بڑھ کر مندیوں دھرما۔یعنی اس سے بڑا دھرم اور کوئی نہیں کہ کسی جاندار کو تکلیف نہ دی جائے۔اسی میں نرمی کی تعلیم اشلوک کے رو سے ہندو لوگ کسی جاندار کو آزار دینا پسند نہیں کرتے۔یہاں تک کہ سانیوں کے شر کا بھی مقابلہ نہیں کرتے۔بلکہ بجائے ان کے شہر کے ان کو دودھ پلاتے ہیں اور ان کی پوجا کرتے ہیں۔اس پوجا کا نام ان کے مذہب میں ناگ پو جا ہے بعض ہندو اس قدر رحم دل ہوتے ہیں کہ بالوں میں جوئیں جو پڑ جاتی ہیں۔ان کو بھی اپنے بالوں سے نہیں نکالتے۔بلکہ ان کے آرام کی نظر سے اپنے تمام بدن کے بال نہیں کٹاتے۔اور ہے