مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 427 of 632

مسیحی انفاس — Page 427

۴۲۷ کی وجہ سے ان میں قساوت قلبی بڑھ گئی اور وہ کینہ کش ہو گئے۔اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جس بادشاہ کے زمانہ میں کوئی ہوتا ہے اس کے اخلاق بھی اسی قسم کے ہو جاتے سکھوں کے زمانہ میں اکثرلوگ ڈاکو ہو گئے تھے۔انگریزوں کے زمانہ میں تہذیب اور تعلیم پھیلتی جاتی ہے اور ہر شخص اس طرف کوشش کر رہا ہے۔غرض بنی اسرائیل نے فرعون کی ماحستی کی تھی۔اس وجہ سے اس میں ظلم بڑھ گیا تھا۔اس لئے توریت کے زمانہ میں عدل کی ضرورت مقدم تھی۔کیونکہ وہ لوگ اس سے بے خبر تھے اور جابرانہ عادت رکھتے تھے۔اور انہوں نے یقین کر لیا تھا کہ دانت کے بدلے دانت کا توڑ نا ضروری ہے اور یہ ہمارا فرض ہے۔اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو سکھایا کہ عدل تک ہی بات ں رہتی بلکہ احسان بھی ضروری ہے۔اس سبب سے مسیح کے ذریعہ انہیں یہ تعلیم دی گئی کہ ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری پھیر دو۔اور جب اسی پر سارا زور دیا گیا تو آخر اللہ تعالی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اس تعلیم کو اصل نکتہ پر پہنچادیا۔اور وہ یہی تعلیم تھی کہ بدی کا بدلہ اس قدر بدی ہے۔لیکن جو شخص معاف کر دیے اور معاف کرنے سے اصلاح ہوتی ہو اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور اجر ہے۔عضو کی تعلیم دی ہے مگر ساتھ قید لگائی کہ اصلاح ہو بے محل عفو نقصان پہنچاتا ہے۔پس اس مقام پر غور کرنا چاہئے کہ جب توقع اصلاح کی ہو تو عفوہی کرنا چاہئے۔جیسے دو خدمتگار ہوں ایک بڑا شریف الاصل اور فرمانبردار اور خیر خواہ ہو لیکن اتفاقا اس سے کوئی غلطی ہو جائے اس موقعہ پر اسے معاف کرنا ہی مناسب ہے۔اگر سزا دی جاوے تو ٹھیک نہیں۔لیکن ایک بد معاش اور شریر ہے۔ہر روز نقصان کرتا ہے اور شرارتوں سے باز نہیں آتا۔اگر اسے چھوڑ دیا جاوے تو وہ اور بھی بیباک ہو جائیگا۔اس کو سزا ہی دینی چاہئے۔غرض اس طرح پر محل اور موقعہ شناسی سے کام لو۔یہ تعلیم ہے جو اسلام نے دی ہے اور جو کامل تعلیم ہے۔اور اس کے بعد اور کوئی نئی تعلیم اور شریعت نہیں آ سکتی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم انہییں ہیں اور قرآن خاتم الکتب۔اب کوئی اور کلمہ یا اور نماز نہیں ہو سکتی۔جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کر کے دکھایا۔لیکچر لدھیانہ۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۸۴، ۲۸۵ نیز دیکھیں۔براہین احمدیہ۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۴۲۷ تا ۴۳۶ بقیه حاشیه در حاشیه ۳