مسیحی انفاس — Page 409
۴۰۹ کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۹ قرآن تمہیں انجیل کی طرح یہ نہیں کہتا کہ ہر گز قسم نہ کھا۔بلکہ بیہودہ قسموں سے تمہیں روکتا ہے کیونکہ بعض صورتوں میں قسم فیصلہ کے لئے ایک ذریعہ ہے۔خدا کسی ذریعہ ثبوت کو ضائع کرنا نہیں چاہتا۔کیونکہ اس سے اس کی حکمت تلف ہوتی ہے۔یہ نی امر ہے کہ جب کوئی انسان ایک متنازعہ فیہ امر میں گواہی نہ دے۔تب فیصلہ کے لئے خدائی گواہی کی ضرورت ہے۔اور قسم خدا کو گواہ ٹھہرانا ہے۔کشتی نوح - روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۹ ، ۳۰ E- ۱۲۸۵ انجیل میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ تم پر لعنت کریں۔ان کے لئے برکت چاہو۔مگر قرآن کہتا ہے کہ تم اپنی خودی سے کچھ بھی نہ کرو۔تم اپنے دل سے جو خدا کی تجلیات کا گھر ہے فتوئی پوچھو کہ ایسے شخص کے ساتھ کیا معاملہ چاہئے۔پس اگر خدا تمہارے دل میں ڈالے کہ یہ لعنت کرنے والا قابل رحم ہے اور آسمان میں اس پر لعنت نہیں تو تم لعنت کرنے والے بھی لعنت نہ کرو۔تا خدا کے مختلف نہ ٹھہرو۔لیکن اگر تمہارا کا نفس اس کو معذور کے بادہ میں تعلیم نہیں ٹھہراتا اور تمہارے دل میں ڈالا گیا ہے کہ آسمان پر اس شخص پر لعنت ہے تو تم اس کے لئے برکت نہ چاہو۔جیسا کہ شیطان کے لئے کسی نبی نے برکت نہیں چاہی اور کسی نبی نے اس کو لعنت سے آزاد نہیں کیا۔مگر کسی کی نسبت لعنت میں جلدی نہ کرو۔کہ بہتیری بلھیاں جھوٹی ہیں اور بہتری لعنتیں اپنے پر ہی پڑتی ہیں۔سنبھل کر قدم رکھو رخوب پڑتال کر کے کوئی کام کرو اور خدا سے مدد مانگو کیونکہ تم اندھے ہو۔ایسانہ ہو کہ عادل کو ظالم ٹھہراو۔اور صادق کو کاذب خیال کرو۔اس طرح تم اپنے خدا کو ناراض کر دو۔اور تمہارے سب نیک کام خبط ہو جاویں۔کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۳۱ انجیل میں کہا گیا ہے کہ تم اپنے نیک کاموں کو لوگوں کے سامنے دکھلانے کے لئے MAY نہ کرو۔مگر قرآن کہتا ہے کہ تم ایسا مت کرو کہ اپنے سارے کام لوگوں سے چھپلو۔بلکہ نیک کاموں کے برہ تم حسب مصلحت بعض اپنے نیک اعمال پوشیدہ طور پر بجالاؤ۔جب کہ تم دیکھو کہ میں تعلیم