مسیحی انفاس — Page 405
۴۰۵ صبر کی آگ سے صاف کی ہوئی ہے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنُ فَلَهُ أَجْرُهُ عِندَ رَبِّهِ، وَلَا خَوْفُ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ یعنی جو شخص اپنے وجود کو خدا کے آگے رکھ دے اور اپنی زندگی اس کی راہوں میں وقف کرے اور نیکی کرنے میں سرگرم ہو سو وہ سر چشمہ قرب الہی سے اپنا اجر پائے گا۔اور ان لوگوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم۔یعنی جو شخص اپنے تمام قومی کوخدا کی راہ میں لگاوے اور خالص خدا کے لئے اس کا قول اور فعل اور حرکت اور سکون اور تمام زندگی ہو جائے۔اور حقیقی نیکی بجالانے میں سرگرم رہے۔سو اس کو خدا اپنے پاس سے اجر دے گا اور خوف اور حرمین سے نجات بخشے گا۔سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کے جوابات۔روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۳۴۴ دا تعالیٰ نے عدل کے بارے میں جو بغیر سچائی پر پور اقدم مارنے کے حاصل نہیں ہو سکتی۔فرمایا ہے۔لا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَتَانُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى یعنی دشمن قوموں کی دشمنی تمہیں انصاف سے مانع نہ ہو۔انصاف پر قائم رہو کہ تقوی اسی میں ہے۔اب آپ کو معلوم ہے کہ جو قومیں ناحق ستاویں اور دکھ دیویں اور خونریزیاں کریں اور تعاقب کریں اور بچوں اور عورتوں کو قتل کریں۔جیسا کہ مکہ والے کافروں نے کیا تھا اور پھر لڑائیوں سے باز نہ آویں ایسے لوگوں کے ساتھ معاملات میں انصاف کے ساتھ برتاؤ کرنا کس قدر مشکل ہوتا ہے۔مگر قرآنی تعلیم نے ایسے جانی دشمنوں کے حقوق کو بھی ضائع نہیں کیا۔اور انصاف اور راستی کے لئے وصیت کی ہے انجیل میں اگر چہ لکھا ہے کہ اپنے دشمنوں سے پیار کرو مگر یہ نہیں لکھا کہ دشمن قوموں کی دشمنی اور ظلم نہیں انصاف اور سچائی سے مانع نہ ہو۔میں بھی سچ کہتا ہوں که دشمن سے مدارات سے پیش آنا آسان ہے۔مگر دشمن کے حقوق کی حفاظت کرنا عدل کے بارہ میں تعلیم