مسیحی انفاس — Page 404
ام هوم ۲۷۵ إلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبَدِي وَادْخُلِي جَنَّنِي یعنی اے وہ نفس جو خدا سے آرام یافتہ ہے اپنے رب کی طرف واپس چلا آوہ تجھ سے راضی اور تو اس سے راضی پس میرے بندوں میں داخل ہو جا اور میرے بہشت کے اندر غرض گناہ کے دور کرنے کا علاج صرف خدا کی محبت اور عشق ہے۔لہذا وہ تمام اعمال صالحہ جو محبت اور عشق کے سرچشمہ سے نکلتے ہیں گناہ کی آگ پر پانی چھڑکتے ہیں کیونکہ انسان خدا کے لئے نیک کام کر کے اپنی محبت پر مہر لگاتا ہے۔خدا کو اس طرح پرمان لینا کہ اس کو ہر ایک چیز پر مقدم رکھنا یہاں تک کہ اپنی جان پر بھی۔یہ وہ پہلا مرتبہ محبت ہے جو درخت کی اس حالت سے مشابہ ہے جب کہ وہ زمین میں لگایا جاتا ہے۔اور پھر دوسرا مرتبہ استغفار جس سے یہ مطلب ہے کہ خدا سے الگ ہو کر انسانی وجود کا پردہ نہ کھل جائے۔اور یہ مرتبہ درخت کی اس حالت سے مشابہ ہے جب کہ وہ زور کر کے پورے طور پر اپنی جڑزمین میں قائم کر لیتا ہے۔اور پھر تیسرا مرتبہ تو بہ جو اس حالت کے مثلبہ ہے کہ جب درخت اپنی جڑیں پانی سے قریب کر کے بچہ کی طرح اس کو چوستا ہے۔غرض گناہ کی فلاسفی یہی ہے کہ وہ خدا سے جدا ہو کر پیدا ہوتا ہے لہذا اس کا دور کر ناخدا کے تعلق سے وابستہ ہے۔پس وہ کیسے نادان لوگ ہیں جو کسی کی خود کشی کو گناہ کا علاج کہتے ہیں۔سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کے جوابات۔روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۳۲۷ تا ۳۳۰ اب جب کہ اس نجات کی تفصیل ہو چکی جو عیسائی یسوع کی طرف منسوب کرتے اس پر طبعا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن بھی یہی لعنتی محبت اور لعنتی قربانی نوع انسان کی پاکیزگی اور نجات کے لئے پیش کرتا کیا قرآن کریم نجات کے لئے سنتی قربانی ہے یا کوئی اور طریق پیش کرتا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس پلید اور ناپاک طریق سے تجویز کرتا ہے اسلام کا دامن بالکل منزہ ہے۔وہ کوئی لعنتی قربانی پیش نہیں کرتا اور نہ لعنتی محبت پیش کرتا ہے۔بلکہ اس نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ ہم سچی پاکیزگی حاصل کرنے کے لئے اپنے وجود کی پاک قربانی پیش کریں جو اخلاص کے پانیوں سے دھوئی ہوئی اور صدق اور