مسیحی انفاس — Page 24
باپ کے سوا نہ ہو۔حالانکہ انجیل میں صریح تناقض تناقض ہے۔مثلا مسیح کہتا ہے کسی کو قیامت کا علم نہیں ہے۔اب یہ کیسی تعجب خیز بات ہے کہ اگر باپ اور بیٹے کی عینیت ایک ہی ہے تو کیا مسیح کا یہ قول اس کا مصداق نہیں کہ دروغ گو را حافظہ نباشد۔کیونکہ ایک مقام پر تو دعوی خدائی اور دوسرے مقام پر الوہیت کے صفات کا انکار اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ انجیل میں میسج پر بیٹے کالفظ آیا ہے اس کے جواب میں ہمیں یہ کہنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ انجیل متحرف یا مبدل ہے بائبل کے پڑھنے والوں سے یہ ہر گز مخفی نہیں ہے کہ اس میں بیٹے کا لفظ کس قدر عام ہے۔اسرائیل کی نسبت لکھا ہے که اسرئیل فرزند من است بلکه نخست زاده من است۔اب اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گا اور خدا کی بیٹیاں بھی بائبل سے تو ثابت ہوتی ہیں۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خدا کا اطلاق بھی ہوا ہے کہ تم خدا ہو اس سے زیادہ اور کیا ثبوت ہو گا۔اب ہر ایک منصف مزاج دانشمند غور کر سکتا ہے کہ اگر ابن کالفظ عام نہ ہو تاتو تعجب کا مقام ہوتا لیکن جبکہ یہ لفظ عام ہے اور آدم کو بھی شجرہ ابناء میں داخل کیا گیا ہے اور اسرائیل کو نخست زادہ بتایا گیا ہے اور کثرت استعمال نے ظاہر کر دیا ہے کہ مقدسوں اور راست بازوں پر یہ لفظ حسن ظن کی بناء پر بولا جاتا ہے۔اب جب تک مسیح پر اس لفظ کے اطلاق کی خصوصیت نہ بتائی جاوے کہ کیوں اس ابنیت میں وہ سارے راست بازوں کے ساتھ شامل نہ کیا جاوے اس وقت تک یہ لفظ کچھ بھی مفید اور موثر نہیں ہو سکتا کیونکہ جب یہ لفظ عام اور قومی محاورہ ہے تو مسیح پر ان سے کوئی نرالے معنے پیدا نہیں کر سکتا۔میں اس لفظ کو مسیح کی خدائی یا امنیت یا الوہیت کی دلیل مان لیتا اگر یہ کسی اور کے حق میں نہ آیا ہوتا۔میں سچ سچ کہتا ہوں اور خدا تعالیٰ کے خوف سے کہتا ہوں کہ ایک پاک دل رکھنے والے اور نیچے کانشنس رکھنے والے کے لئے اس بات کی ذرا بھی پرواہ نہیں ہو سکتی اور ان الفاظ کی کچھ بھی وقعت نہیں ہو سکتی جب تک یہ ثابت کر کے نہ دکھایا جاوے کہ کسی اور شخص پر یہ لفظ کبھی نہیں آئے اور یا آئے تو ہیں مگر مسیح ان وجوہات قویہ کی بناء پر اوروں سے ممتاز اور خصوصیت رکھتا ہے۔یہ تو دور نکلی ہے کہ مسیح کے لئے یہی لفظ آئے تو وہ خدا بنایا جاوے اور دوسروں پر اس کا اطلاق ہو تو وہ بندے کے بندے۔ا ملفوظات جلد ۳ صفحه ۱۲۹ تا ۱۳۱ ₹