مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 23 of 632

مسیحی انفاس — Page 23

۲۳ اول کیا ان پیش گوئیوں کی بابت یہودیوں نے بھی جن کی کتابوں میں یہ درج ہیں یہی سمجھا ہوا تھا کہ ان سے تثلیث پائی جاتی ہے یا سیح کا خدا ہونا ثابت ہوتا ہے۔وہ پیش گوئیاں خود دوم کیا اس نے خود بھی تسلیم کیا کہ یہ پیش گوئیاں میرے ہی لئے ہیں۔اور پھر اپنے گھر میں یا نہ ہو حضرت مسیح نے اپنے پر آپ کو ان کا مصداق قرار دے کر مصداق ہونے کا عملی ثبوت کیا دیا؟ اب اگر چہ یہ ایک چہل نہیں کیں۔لمبی بحث بھی ہو سکتی ہے کہ کیا در حقیقت وہ پیش گوئیاں اصل کتاب میں اسی طرح درج ہیں یا نہیں مگر اس کی چنداں ضرورت نہ سمجھ کر ان دو تنقیح طلب امور پر نظر کرتے ہیں۔یہودیوں نے جو اصل وارث کتاب توریت ہیں اور جن کی بابت خود مسیح نے کہا ہے کہ وہ موسی کی گدی پر بیٹھے ہیں۔کبھی بھی ان پیش گوئیوں کے یہ معنے نہیں کئے جو اپ یا دوسرے عیسائی کرتے ہیں اور وہ بھی بھی مسیح کی بابت یہ خیال رکھ کر کہ وہ تثلیث کا ایک یہودیوں نے ان پیشین گوئیوں کے وہ معافی جزو ہے منتظر نہیں چنانچہ میں نے اس سے پہلے بہت واضح طور پر اس کے متعلق سنایا نہیں کئے جو موجودہ ہے۔اور عیسائی لوگ محض زبر دستی کی راہ سے ان پیش گوئیوں کو حضرت مسیح پر جماتے میسلائی کرتے ہیں۔ہیں جو کسی طرح بھی نہیں جمتی ہیں ورنہ علماء یہود کی کوئی شہادت پیش کرنی چاھئے کہ کیا وہ اس سے یہی مراد لیتے ہیں جو تم لیتے ہو۔پھر انجیل پڑھ کر دیکھ لو ( وہ کوئی بہت بڑی کتاب نہیں ) اس میں کہیں بھی ایسا نہیں ہوا کہ حضرت مسیح نے ان پیش گوئیوں کو پورا نقل کر کے کہا ہو کہ اس پیش گوئی کے رو سے میں خدا ہوں اور یہ میری الوہیت کے دلائل ہیں۔کیونکہ نزاد عوامی تو کسی دانشمند کے نزدیک بھی قابل سماعت نہیں ہے۔مسیح نے خود کبھی دعوی نہیں کیا تو کسی دوسرے کا خواہ مخواہ ان کو خدا بنانا عجیب بات ہے۔کہ کوئی عقلمند اور خداترس ان کو پڑھ کر انہیں خدا نہیں کہ سکتا بلکہ کوئی بڑا عظیم الشان کانونی اور عمل میں اور اگر بفرض محال کیا بھی ہو تو اس قدر تناقض ان کے دعوی اور افعال میں پایا جاتا ہے دیوی اور افعال میں انسان کہنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔انجیل کے اس دعوی کو رد کرنے کے لئے تو خود انجیل ہی کافی ہے کیونکہ کہیں مسیح کا دوعا ثابت نہیں بلکہ جہاں ان کو موقعہ ملا تھا کہ وہ اپنی خدائی منوا لیتے وہاں انہوں نے ایسا جواب دیا کہ ان ساری پیش گوئیوں کے مصداق ہونے سے گویا انکار کر دیا اور ان کے افعال اور اقوال جو انجیل میں درج ہیں وہ بھی اسی کے موید ثابت ہوتے ہیں کیونکہ خدا کے لئے تو یہ ضرور ہے کہ اس کے افعال اور اقوال میں تناقض تناقض