مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 394 of 632

مسیحی انفاس — Page 394

۳۹۴ سو یہی جھگڑا مسیح کے بارے میں یہود اور نصاری میں چلا آتا تھا جس کو آخر قرآن شریف نے فیصلہ کیا۔پھر ابھی تک نصاری کہتے ہیں کہ قرآن کے اترنے کی کیا ضرورت فی۔اے نادانوں ! اور دلوں کے اند ھو ! قرآن کامل توحید لایا۔قرآن نے عقل اور نقل کو ملا کر دکھلایا۔قرآن نے توحید کو کمال تک پہنچایا۔قرآن نے توحید اور صفات باری پر دلائل قائم کئے۔اور خدا تعالیٰ کی ہستی کا ثبوت عقلی نقلی دلائل سے دیا۔اور کشفی طور پر بھی دلائل قائم کئے اور وہ مذہب جو پہلے قصہ کہانی کے رنگ میں چلا آتا تھا اس کو علمی رنگ میں دکھلایا۔اور ہر ایک عقیدہ کو حکمت کا جامہ پہنایا۔اور وہ سلسلہ معارف دینیہ کا جو غیر مکمل تھا اس کو کمال تک پہنچایا۔اور یسوع کی گردن سے لعنت کا طوق اتارا۔اور اس کے مرفوع اور سچانبی ہونے کی شہادت دی۔تو کیا اس قدر فیض رسانی کے ساتھ ابھی قرآن کی ضرورت ثابت نہ ہوئی ؟ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کے جوابات۔روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۳۵۳ تا ۳۵۵ یادر ہے کہ قرآن نے بڑی صفائی سے اپنی ضرورت ثابت کی ہے۔قرآن صاف کہتا اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحِى الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا یعنی اسبات کو جان توریت اور اجیل کے لوگہ زمین مرگئی تھی اور اب خدائے سرے اس کو زندہ کرنے لگا ہے۔تاریخ شہادت ہوتے ہوئے قرآن کی دیتی ہے کہ قرآن کے زمانہ قرب نزول میں ہر ایک قوم نے اپنا چال چلن بگاڑا ہوا تھا ضرورت پادری فنڈل مصنف میزان الحق باوجود باوجود اس تعصب کے جو اس کے رگ وریشہ میں بھرا ہوا تھا۔میزان الحق میں صاف گواہی دیتا ہے کہ قرآن کے نزول کے زمانہ میں یہودو نصاری کا چال چلن بگڑا ہوا تھا۔اور ان کی حالتیں خراب ہو رہی تھیں اور قرآن کا آنا ان کے لئے ایک تنبیہ تھی۔مگر اس نادان نے باوجودیکہ یہ تو اقرار کیا کہ قرآن اس وقت آیا جبکہ یہود و نصاری کا چال چلن بہت خراب ہو رہا تھا لیکن پھر بھی یہ جھوٹا عذر پیش کر دیا کہ خدا تعالیٰ کو ایک جھوٹانہیں بھیج کر یہود و نصاری کو متنبہ کرنا منظور تھا۔مگر یہ اللہ تعالیٰ پر تہمت ہے۔کیا ہم اللہ جل شانہ کی طرف یہ خراب عادت منسوب کر سکتے ہیں کہ اس نے لوگوں کو گمراہی اور بد چلنی میں پا کر یہ تدبیر سوچی کہ اور بھی گمراہی کے سامان ان کے لئے میسر کرے اور کروڑہا بندگان خدا کو اپنے ہاتھ سے تباہی میں ڈالے۔کیا غلبہ شدائد و