مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 380 of 632

مسیحی انفاس — Page 380

۳۸۰ ۲۵۹ مُصدِ قَا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مصدق کے معنے قرآنی طور پر یہ ہیں کہ جو کچھ صحیح تھا اس کی تو نقل کر دی اور جو نہیں لیا وہ غلط تھا۔پھر انجیلوں کا آپس میں اختلاف ہے یہ اگر قرآن نے تصدیق کی ہے تو بتلاء کونسی انجیل کی کی ہے قرآن نے یوحنا بتی وغیرہ کی انجیل کی کہیں تصدیق نہیں کی ہاں پطرس کی دعا کی تصدیق کی ہے اسی طرح کو نسی توریت مصدق کے معنے کہیں جس کی تصدیق قرآن نے کی! پہلے توریت تو ایک بتاؤ۔قرآن تو تمہاری توریت کو محرف بتلاتا ہے اور تم میں خود اختلاف ہے کہ توریت مختلف ہے۔البدر - جلد ا نمبر ۲۔مورخہ ۷ نومبر ۱۹۰۲ء۔صفحہ ۱۰ قرآن شریف انجیل کی تصدیق قول سے نہیں کرتا بلکہ فعل سے کرتا ہے۔کیونکہ جو قرآن شریف انجیل کی حصہ انجیل کی تعلیم کا قرآن کے اندر شامل ہے اس پر قرآن نے عمل در آمد کروا کے دکھلا تصدیق قول سے نہیں ہے۔۔بلکہ قتل سے کرتا دیا ہے اور اسی لئے ہم اسی حصہ انجیل کی تصدیق کر سکتے ہیں جس کی قرآن کریم نے تصدیق کی ہمیں کیا معلوم کہ باقی کار طب و یابس کہاں سے آیا ہاں اس پر یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ پھر آیت وَلْيَحْكُمُ اهْلُ الاِنجیل میں جو لفظ انجیل عام ہے اس سے کیا مراد ہے۔وہاں یہ بیان نہیں ہے کہ انجیل کا وہ حصہ جس کا مصدق قرآن ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں الانجیل سے مراد اصل انجیل اور توریت ہے جو قرآن کریم میں درج ہو چکیں۔اگر یہ نہ مانا جاوے تو پھر بتلایا جاوے کہ اصلی انجیل کونسی ہے ! کیونکہ آجکل کی مروجہ اناجیل تواصل نہیں ہو سکتیں ان کی اصلیت کس کو معلوم ہے۔اور یہ بھی خود عیسائی مانتے ہیں کہ اس کا فلاں حصہ الحاقی ہے۔پھر ایک اور بات دیکھنے والی ہے کہ انجیل میں عیسی کی موت اور بعد کے حالات اور توریت میں موسیٰ کی موت کا حال درج ہے تو کیا اب ان کتابوں کا نزول دونوں نبیوں کی وفات کے بعد تک ہو تا رہا۔اس سے ثابت ہے کہ موجودہ کتب اصل نہیں ہیں اور نہ اب ان کا میسر آنا ممکن ہے۔البدر - جلد ۲ نمبر ۳۲۔مورخه ۲۸ اگست ۱۹۰۳ صفحه ۲۵۰ *