مسیحی انفاس — Page 379
۳۷۹ : عیسائی مذہب ان نشانوں سے بھی محروم ہے۔دعوی اتنا بڑا ہے کہ ایک انسان کو خدا بناتا چاہتے ہیں۔اور ثبوت میں صرف قصے کہانیاں پیش کرتے ہیں۔ہاں بعض کہتے ہیں لہ انجیل کی تعلیم ہی ایسی عمدہ ہے کہ جو بطور نشان کے ہے۔لیکن در حقیقت یہ ان کی بڑی غلطی ہے۔اور سچ یہ ہے کہ انجیل کی تعلیم نہایت ہی ناقص ہے۔اسی لئے آنے فارقلیط حضرت مسیح کو عذر کرنا پڑا کہ " آنیوالا فارقلیط اس نقصان کا تدارک کرے شان والای ایرانی نقصان کا تدارک گا۔" ہمیں اس سے کچھ بحث نہیں کہ انجیل کے شاخوان دکھلاتے کچھ اور ہیں اور کرتے کرے گا۔کچھ اور۔لیکن اس میں کچھ بھی شک نہیں کہ انجیل انسانیت کے درخت کی پورے طور پر آب پاشی نہیں کر سکتی۔ہم اس مسافر خانہ میں بہت سے قوئی کے ساتھ بھیجے گئے ہیں اور ہر ایک قوت چاہتی ہے کہ اپنے موقعہ پر اس کو استعمال کیا جائے۔اور انجیل صرف ایک ہی قوت حلم اور نرمی پر زور مار رہی ہے۔علم اور عفو در حقیقت بعض مواضع میں اچھی ہے لیکن بعض دوسرے مواضع میں تم قاتل کی تاثیر رکھتی ہے۔ہماری یہ تمدنی زندگی کہ مختلف طبائع کے اختلاط پر موقوف ہے بلاشبہ تقاضہ کرتی ہے کہ ہم اپنے تمام قومی کو محل بینی اور موقعہ شناسی سے استعمال کیا کریں۔کیا یہ سچ نہیں کہ اگر چہ بعض جگہ ہم در گذر کر کے اس شخص کو فائدہ جسمانی اور روحانی پہنچاتے ہیں جس نے ہمیں کوئی آزار نچایا ہے۔لیکن بعض دوسری جگہ ایسی بھی ہیں جو اس جگہ ہم اس خصلت کو استعمال کرنے سے شخص مجرم کو اور بھی مفسدانہ حرکات دلیر کرتے ہیں۔عفوو پس یہ کس قدر غلطی ہے کہ انسانیت کے درخت کی تمام ضروری شاخیں کاٹ کر صرف ایک ہی شاخ صبر و عفو پر زور دیا جائے۔اسی وجہ سے یہ تعلیم چل نہیں سکی۔اور آخر عیسائی سلاطین کو جرائم پیشہ کی طرف سے طیار کرنے پڑے۔غرض انجیل موجودہ ہر گز تصور کرے ہے جو امین ایا کی سکتی اور جس طرح آفتاب کے نکلنے سے ستارے مضمحل ہوتے جاتے ہیں یہاں تک کہ آنکھوں سے غائب ہو جاتے ہیں یہی حالت انجیل کی قرآن شریف کے مقابل پر ہے۔پس یہ بات نہایت قابل شرم ہے کہ یہ دعوی کیا جائے کہ انجیل کی تعلیم بھی ایک آسمانی نشان ہے !!! کتاب البرية - روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۶۵ تا ۶۷