مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 377 of 632

مسیحی انفاس — Page 377

۳۷۷۔ایسی باتیں صرف دو خیال سے ہوتی ہیں۔(۱) ایک یہ کہ وہ قصہ یادہ کتاب اناجیل مروجہ کے مخالف ہوتی ہے۔(۲) دوسرے یہ کہ وہ قصہ یا وہ کتاب قرآن شریف سے کسی قدر مطابق ہوتی ہے اور بعض شریر اور سیاہ دل انسان ایسی کوشش کرتے ہیں کہ اول ر اصول ہی مسلمہ کے طور پر یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ یہ جعلی کتابیں ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ قرآن شریف میں ان کا قصہ درج ہے۔اور اس طرح پر نادان لوگوں کو دہو کہ میں اگر ڈالتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ اس زمانہ کے نوشتوں کا جعلی یا اصلی ثابت کرنا بجز خدا کی وحی کے اور کسی کا کام نہ تھا۔پس خدا کی وحی کا جس کسی قصہ سے توار د ہوا وہ سچا ہے گو بعض نادان انسان اس کو جھوٹ قصہ قرار دیتے ہیں۔اور جس واقعہ کی خدا کی وحی نے تکذیب کی وہ جھوٹا ہے اگر چہ بعض انسان اس کو سچ قرار دیتے ہوں اور قرآن شریف کی نسبت یہ گمان کرنا کہ ان مشهور قصوں یا افسانوں یا کتبوں یا اناجیل سے بنایا گیا ہے نہایت قابل شرم جہالت ہے۔کیا یہ ممکن نہیں کہ خدا کی کتاب کا کسی گذشتہ مضمون سے توار د ہو جائے۔چنانچہ ہندووں کے دید جو اس زمانہ میں مخفی تھے ان کی کئی سچائیاں قرآن شریف میں پائی جائی ہیں۔پس کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وید بھی پڑہا تھا۔اناجیل کا ذخیرہ جو چھاپہ خانہ کے ذریعہ سے اب ملا ہے عرب میں کوئی ان کو جانتا بھی نہ تھا اور عرب کے لوگ مشخص امی تھے۔اور اگر اس ملک میں شاذ و نادر کے طور پر کوئی عیسائی بھی تھا وہ بھی اپنے مذہب کی کوئی وسیع واقفیت نہیں رکھتا تھا۔تو پھر یہ الزام کہ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سرقہ کے طور پر ان کتابوں سے وہ مضمون لئے تھے ایک لعنتی خیال ہے۔آنحضرت محض آتی تھے۔آپ عربی بھی پڑھ نہیں سکتے تھے چہ جائیکہ یونانی یا عبرانی۔یہ بار ثبوت ہمارے مخالفوں کے ذمے ہے کہ اس زمانہ کی کوئی پرانی کتاب پیش کریں جس سے مطالب اخذ کئے گئے۔اگر فرض محال کے طور پر قرآن شریف میں سرقہ کے ذریعہ سے کوئی مضمون ہوتا تو عرب کے عیسائی لوگ جو اسلام کے سخت دشمن تھے فی الفور شور مچاتے کہ ہم سے سن کر ایسا مضمون لکھا ہے۔کمرہ عیسائی مذہب میں دین کی حمایت کے لئے ہر ایک قسم کا افتراء کرنا اور جھوٹ جائز بلکہ موجب ثواب ہے۔دیکھو پولوس کا قول۔منہ