مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 376 of 632

مسیحی انفاس — Page 376

۲۵۷ جعلی۔الدین اسے الحاق مانتا ہے۔لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ ایک حصہ الحاقی مان کر پھر آسمانی کہتے ہوئے اسے شرم نہیں آ سیح کی لکھی ہوئی انجیل نہیں۔حواریوں کی زبان عبرانی میں نہیں۔تیسری مصیبت یہ ہے کہ الحاقی بھی ہے اور پھر آخر یہ کہ یہ تعلیم ادھوری اور ناقص اور نا معقول ہے اور اسے پیش کیا جاتا ہے کہ نجات کا اصلی ذریعہ یہی ہے۔ملفوظات۔جلد ۳ صفحہ ۱۷۳، ۱۷۴ اب یہ بھی یادر ہے کہ پادریوں کی مذہبی کتابوں کا ذخیرہ ایک ایسار دی ذخیرہ ہے جو نہایت قابل شرم ہے۔وہ لوگ صرف اپنی ہی انکل سے بعض کتابوں کو آسمانی عیسائی کا ایک وہ اسی ٹھہراتے ہیں اور بعض کو جعلی قرار دیتے ہیں۔چنانچہ ان کے نزدیک یہ چار انجیلیں اصلی کچھ سکتے ہیں نہ ہیں اور باقی جو چھپن کے قریب ہیں جعلی ہیں۔مگر محض گمان اور شک کے رُو سے نہ کسی جو نہ مستحکم دلیل پر اس خیال کی بناء ہے کیونکہ مروجہ انجیلوں اور دوسری انجیلوں میں بہت تناقض ہے اس لئے اپنے گھر میں ہی یہ فیصلہ کر لیا ہے اور محققین کی یہی رائے ہے کہ کچھ نہیں کہہ سکتے کہ یہ انجیل میں جعلی ہیں یا وہ جعلی ہیں۔اسی لئے شاہ ایڈور ڈقیصر کے تخت نشینی کی تقریب پر لنڈن کے پادریوں نے وہ تمام کتابیں جن کو یہ لوگ جعلی تصور کرتے ہیں ان چار انجیلوں کے ساتھ ایک ہی جلد میں مجلد کر کے مبارکبادی کے طور پر بطور نذر پیش کی تھیں۔اور اس مجموعہ کی ایک جلد ہمارے پاس بھی ہے۔پس غور کا مقام ہے کہ اگر در حق حقیقت وہ کتابیں گندی اور جعلی اور ناپاک ہوتیں تو پھر پاک اور ناپاک دونوں کو ایک جلد میں مجلد کرنا کس قدر گناہ کی بات تھی۔بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ دلی اطمینان سے نہ کسی کتاب کو جعلی کہہ سکتے ہیں نہ اصلی ٹھہراسکتے ہیں۔اپنی اپنی رائیں ہیں اور سخت تعصب کی وجہ سے وہ انجیلیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں۔ان کو یہ لوگ جعلی قرار دیتے ہیں۔چنانچہ برنباس کی انجیل جس میں نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت پیش گوئی ہے وہ اسی وجہ سے جعلی قرار دی گئی ہے کہ اس میں کھلے کھلے طور پر آنحضرت کی پیش گوئی موجود ہے۔چنانچہ سیل صاحب نے اپنی تفسیر میں اس قصہ کو بھی لکھا ہے کہ ایک عیسائی راہب اسی انجیل کو دیکھ کر مسلمان ہو گیا تھا۔غرض یہ بات خوب یاد رکھنی چاہئے کہ یہ لوگ جس کتاب کی نسبت کہتے ہیں کہ یہ جعلی ہے یا جھوٹا قصہ ہے