مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 372 of 632

مسیحی انفاس — Page 372

تھی کہ اس سے پہلے الیاس نبی دوبارہ دنیا میں آئے گا۔پس چونکہ الیاس نبی دوبارہ دنیا میں نہ آیا اس لئے یہودی اب تک حضرت عیسی کو مفتری اور مکار کہتے ہیں۔یہ یہودیوں کی ایسی حجت ہے کہ عیسائیوں کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں۔اور شیطان کا مسیح کے پاس آنا یہ بھی یہودیوں کے نزدیک مجنونانہ خیال ہے۔اکثر مجانین ایسی ایسی خواہیں دیکھا کرتے ہیں۔یہ مرض کابوس کی ایک قسم ہے۔اس جگہ ایک محقق انگریز نے یہ تاویل کی ہے کہ شیطان کے آنے سے مراد یہ ہے کہ مسیح کو تین دفعہ شیطانی الہام ہوا تھا۔مگر مسیح شیطانی الہام سے متاثر نہیں ہوا۔ایک شیطانی الہاموں میں سے یہ تھا کہ مسیح کے دل میں شیطان کی طرف سے یہ ڈالا گیا کہ وہ خدا کو چھوڑ دے اور محض شیطان کے تابع ہو جائے مگر تعجب کہ شیطان خدا کے بیٹے پر مسلط ہوا۔اور دنیا کی طرف اس کو رجوع دیا۔حالانکہ وہ خدا کا بیٹا کہلاتا ہے پھر خدا ہونے کے بر خلاف وہ مرتا ہے۔کیا خدا بھی مرا کرتا ہے ؟ اور اگر محض انسان مرا ہے تو پھر کیوں یہ دعوی ہے کہ ابن اللہ نے انسانوں کے لئے جان دہی۔اور پھر وہ ابن اللہ کہلا کر قیامت کے وقت سے بھی بے خبر ہے جیسا کہ می کا اقرار انجیل میں موجود ہے کہ وہ باوجود ابن اللہ ہونے کے نہیں جانتا کہ قیامت کب آئیگی۔باوجود خدا کہلانے کے قیامت کے علم سے بے خبر ہونا کس قدر بیہودہ بات ہے بلکہ قیامت تو دور ہے اس کو تو یہ خبر بھی نہ تھی کہ جس درخت انجیر کی طرف چلا اس پر کوئی پھل نہیں۔اب ہم اصل امر کی طرف رجوع کر کے مختصر طور پر بیان کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی ایک وحی اگر کسی گذشتہ قصہ یا کتاب میں آجائے یا پوری مطابق نہ ہو یا فرض کرو کہ وہ قصہ یا وہ کتاب لوگوں کی نظر میں ایک فرضی کتاب یا فرضی قصہ ہے تو اس سے خدا تعالیٰ کی وجی پر کوئی حملہ نہیں ہو سکتا۔جن کتابوں کا نام عیسائی لوگ تاریخی کتابیں رکھتے یا آسمانی وحی کہتے ہیں یہ تمام بے بنیاد باتیں ہیں جن کا کوئی ثبوت نہیں۔اور کوئی کہتا۔ان کی شکوک و شبہات کے گند سے خالی نہیں۔اور جن کتابوں کو وہ جعلی اور فرضی کہتے ہیں ممکن ہے کہ وہ جعلی نہ ہوں اور جن کتابوں کو وہ صحیح مانتے ہیں ممکن ہے وہ جعلی ہوں خدا تعالیٰ کی کتاب ان کی مطابقت یا مخالفت کی محتاج نہیں ہے۔خدا تعالیٰ کی سچی کتاب کا یہ معیار نہیں ہے کہ ایسی کتابوں کی مطابقت یا مخالفت دیکھی جائے۔عیسائیوں کی کسی کتاب کو جعلی کہنا ایسا امر نہیں ہے کہ جو جوڈیشنل تحقیقات سے ثابت ہو چکا ہے۔اور نہ ۳۷۲