مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 371 of 632

مسیحی انفاس — Page 371

کیا۔اور قبول نہ کیا۔اس میں ان کی کوئی کسر شان نہیں۔کیا بادشاہوں کے حضور میں کبھی بد معاش کلام نہیں کرتے۔سو ایسا ہی روحانی طور سے شیطان نے یسوع کے دل اپنا کلام ڈالا۔یسوع نے اس شیطانی الہام کو قبول نہ کیا۔بلکہ رد کیا۔سو یہ تو قابل تعریف بات ہوئی۔اس سے کوئی نکتہ چینی کرنا حماقت اور روحانی فلاسفی کی بے خبری ہے۔لیکن جیسا کہ یسوع نے اپنے نور کے تازیانہ سے شیطانی خیال کو دفع کیا۔اور اس کے الہام کی پلیدی فی الفور ظاہر کر دی۔ہر ایک زاہد اور صوفی کا یہ کام نہیں۔ضرورة الامام - روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۴۸۴ تا ۴۸۷ ۲۵۲ عیسائی مذہب بھی عجیب مذہب ہے کہ ہر ایک بات میں غلطی اور ہر ایک امر میں لغزش ہے اور پھر باوجود ان تمام تاریکیوں کے آئندہ زمانہ کے لئے وحی اور الہام پر مہر لگ گئی ہے۔اور اب ان تمام اناجیل کی غلطیوں کا فیصلہ حسب اعتقاد عیسائیوں کی وحی جدید کی انجیل غلطیاں۔(اندرونی رو سے تو غیر ممکن ہے کیونکہ ان کے عقیدہ کے موافق اب وحی آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے۔اب تمام مدار صرف اپنی اپنی رائے پر ہے جو جہالت اور تاریکی سے مبرا نہیں۔اور ان کی انجیلیں اس قدر بیہودگیوں کا مجموعہ ہیں جو ان کا شمار کرنا غیر ممکن مثلاً ایک عاجز انسان کو خدا بناتا اور دوسروں کے گناہوں کی سزا میں اس کے لئے صلیب تجویز کرنا اور تین دن تک اس کو دوزخ میں بھیجنا۔اور پھر ایک طرف خدا بناتا اور ایک طرف کمزوری اور دروغ گوئی کی عادت کو اس کی طرف منسوب کرنا۔چنانچہ انجیلوں میں بہت سے ایسے کلمات پائے جاتے ہیں جن سے نعوذ باللہ حضرت مسیح کا دروغ گو ہونا ثابت ہوتا ہے۔مثلا وہ ایک چور کو وعدہ دیتے ہیں کہ آج بہشت میں تو میرے ساتھ روزہ کھولے گا۔اور ایک طرف وہ خلاف وعدہ اسی دن دوزخ میں جاتے ہیں اور تین دن دوزخ میں ہی رہتے ہیں۔ایسا ہی انجیلوں میں یہ بھی لکھا ہے کہ شیطان آزمائش کے لئے مسیح کو کئی جگہ لئے پھرا۔یہ عجیب بات ہے کہ مسیح خدا بن کر بھی شیطان کی آزمائش سے بچ نہ سکا اور شیطان کو خدا کی آزمائش کی جرات ہو گئی۔یہ انجیل کا فلسفہ تمام دنیا سے نرالا ہے۔اگر شیطان دراصل مسیح کے پاس آیا تھا تو مسیح کے لئے بڑا عمدہ موقعہ تھا کہ یہودیوں کو شیطان دکھلا دیتا کیونکہ یہودی حضرت مسیح کی نبوت کے سخت انکاری تھے۔وجہ یہ کہ ملا کی نبی کی کتاب میں نیچے مسیح کی یہ علامت لکھی شہادتیں) میں