مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 367 of 632

مسیحی انفاس — Page 367

کہ وہ دروغ گو نہ ہو۔اور دوسرے یہ کہ اس کے حافظہ میں خلل نہ ہو۔اور تیسرے یہ کہ وہ عمیق الفکر ہو اور سطحی خیال کا آدمی نہ ہو۔اور جو تھے یہ کہ وہ محقق ہو اور سطحی باتوں پر کفایت کرنے والا نہ ہو۔اور پانچویں یہ کہ جو کچھ لکھتے چشم دید لکھنے محض رطب یا بس کو پیش کرنے والا نہ ہو۔مگر انجیل نویسوں میں ان شرطوں میں سے کوئی شرط موجود نہ تھی یہ ثابت شدہ امر ہے کہ انہوں نے اپنی انجیلوں میں عمداً جھوٹ بولا ہے۔چنانچہ ناصرہ کے معنے الٹے گئے۔اور عمانوایل کی پیش گوئی کو خواہ نخواہ مسیح پر جمایا انجیل میں لکھا کہ اگر یسوع کے تمام کام لکھتے جاتے تو وہ کتابیں دنیا میں سمانہ سکتیں۔اور حافظہ کا یہ حال ہے کہ پہلی کتابوں کے بعض حوالوں میں غلطی کھائی اور بہت سی بے اصل باتوں کو لکھ کر ثابت کیا کہ ان کو عقل اور فکر اور تحقیق سے کام لینے کی عادت نہ تھی بلکہ بعض جگہ ان انجیلوں میں نہایت قابل شرم جھوٹ ہے۔جیسا کہ متی باپ ۵ میں یسوع کا یہ قول کہ " تم سن چکے ہو کہ اپنے پڑوسی سے محبت کر اور اپنے دشمن سے نفرت کر حلانکہ پہلی کتابوں میں یہ عبارت موجود نہیں۔ایسا ہی ان کا یہ لکھنا که تمام مردے بیت المقدس کی قبروں سے نکل کر شہر میں آگئے تھے۔یہ کس قدر بیہودہ بات ہے۔اور کسی معجزہ کے لکھنے کے وقت کسی انجیل نویس نے یہ دعوی نہیں کیا کہ وہ اس کا چشم دید ماجرا ہے۔پس ثابت ہوتا ہے کہ وقائع نویسی کے شرائط ان میں موجود نہ تھے۔اور ان کا بیان ہر گز اس لائق نہیں کہ کچھ بھی اس کا اعتبار کیا جائے۔اور باوجود اس بے اعتباری کے جس بات کی طرف وہ بلاتے ہیں وہ نہایت ذلیل خیال اور قابل شرم عقیدہ ہے۔کیا یہ بات عند العقل قبول کرنے کے لائق ہے کہ ایک عاجز مخلوق جو تمام لوازم انسانیت کے اپنے اندر رکھتا ہے خدا کہلاوے ؟ کیا عقل اس بات کو مان سکتی ہے کہ مخلوق اپنے خالق کو کوڑے مارے اور خدا کے بندے اپنے قادر خدا کے منہ پر تھو میں اور اس کو پکڑیں اور اس کو سولی دیں اور وہ خدا ہو کر ان کے مقابلہ سے عاجز ہو ؟ کیا یہ بات کسی کو سمجھ آسکتی ہے کہ ایک شخص خدا کہلا کر تمام رات دعا کرے اور پھر اس کی دعا قبول نہ ہو ؟ کیا کوئی دل اس بات پر اطمینان پکڑ سکتا ہے کہ خدا بھی عاجز بچوں کی طرح نو مہینے تک پیٹ میں رہے اور خون حیض کھاوے اور آخر چیختا ہوا عورتوں کی شرم گاہ سے پیدا ہو ؟ کیا کوئی اس بات کو قبول کر سکتا ہے کہ خدا بیشمار اور بے ابتد از مانہ کے بعد مجسم ہو جائے اور ایک ٹکڑہ اس کا انسان کی صورت بنے اور دوسرا کبوتر کی اور یہ جسم ہمیشہ