مسیحی انفاس — Page 366
۳۶۶ E معاملہ اس سے رہا اور کس کس قسم کے عجائبات اس سے ظہور میں آئے۔مگر افسوس کہ انجیل نویسوں نے اس حصہ کا نام بھی نہ لیا۔ہاں لوقا باب اول میں اس قدر کہ ر لکھا ہے کہ فرشتہ نے مریم پر ظاہر ہو کر اس کو بیٹے کی خوشخبری دی اور کہا کہ اس کا نام عیسی رکھنا ئین یہ قصہ لوقا کی خود تراشیدہ بات معلوم ہوتی ہے۔کیونکہ اگر یہ قصہ صحیح ہو تاتو پھر مریم اس کی ماں جس کو فرشتہ نظر آیا تھا اور اس کے بھائی جو اس فرشتہ سے خوب اطلاع رکھتے تھے کیوں اس پر ایمان نہ لائے۔اور یہ انکار اس حد تک کیوں پہنچ گیا کہ یسوع نے خود اپنے بھائیوں کے بھائی ہونے سے انکار کیا۔اور ماں سے بھی انکار کیا۔کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۸۹، ۹۰ ایک اور اعتراض متی وغیرہ انجیلوں پر ہے اور وہ یہ ہے کہ ان تحریرات کا الہامی ہونا ہر گز ثابت نہیں۔کیونکہ ان کے لکھنے والوں نے کسی جگہ یہ دعوی نہیں کیا کہ یہ کتابیں الہام سے لکھی گئی ہیں۔بلکہ بعض نے ان میں سے صاف اقرار بھی کر دیا ہے اپیل کا الہی ہوا کہ یہ کتابیں محض انسانی تالیف ہیں۔سچ ہے کہ قرآن شریف میں انجیل کے نام پر ایک علامت نہیں۔کتاب حضرت عیسی پر نازل ہونے کی تصدیق ہے۔مگر قرآن شریف میں ہر گز یہ نہیں ہے کہ کوئی الہام متی یا یو ناو غیرہ کو بھی ہوا ہے۔اور وہ الہام انجیل کہلاتا ہے۔اس لئے مسلمان لوگ کسی طرح ان کتابوں کو خدا تعالیٰ کی کتابیں تسلیم نہیں کر سکتے۔ان ہی انجیلوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح خدا تعالیٰ سے الہام پاتے تھے اور اپنے الہامات کا نام انجیل رکھتے تھے۔پس عیسائیوں پر لازم ہے کہ وہ انجیل پیش کریں۔تعجب کہ یہ لوگ اس کا نام بھی نہیں لیتے۔پس وجہ یہی ہے کہ اس کو یہ لوگ کھو بیٹھے ہیں۔كتاب البریہ - روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۷۶ السلام ان میں جس قدر مجموعات لکھے گئے ہیں جن سے خواہ نخواہ حضرت عیسی علیہ ال کی خدائی ثابت کی جاتی ہے وہ معجزات ہر گز ثابت نہیں ہیں۔کیونکہ انجیل نویسوں کی نبوت جو مدار ثبوت تھی ثابت نہیں ہو سکی اور نہ انہوں نے نبوت کا دعوی کیا اور نہ کوئی انجیل نویسوں میں معجزہ دکھلایا۔باقی رہا یہ کہ انہوں نے بحیثیت ایک وقائع نویس کے مجربات کو لکھا ہو۔سو وقائع نویسی کی شرائط وقائع نویسی کے شرائط بھی ان میں متحقق نہیں کیونکہ وقائع نویس کے لئے ضروری ہے مفقود ہیں۔