مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 315 of 632

مسیحی انفاس — Page 315

۳۱۵ اور آپ سے فیض اٹھاتے۔سو ان دونوں باتوں کو یکجائی نظر کے ساتھ دیکھنے سے یقیناً سمجھ میں آتا ہے کہ ضرو رحضرت مسیح علیہ السلام تبت کی طرف تشریف لے گئے تھے اور خود جسقدر تبت کے بدھ مذہب میں عیسائی تعلیم اور رسوم دخل کر گئے ہیں اس قدر گہرا دخل اس بات کو چاہتا ہے کہ حضرت مسیح اُن لوگوں کو ملے ہوں اور بد عہ مذہب کے سرگرم مُریدوں کا اُن کی ملاقات کے لئے ہمیشہ منتظر ہونا جیسا کہ بدھ کی کتابوں میں اب تک لکھا ہوا موجود ہے بلند آواز سے پکار رہا ہے کہ یہ انتظار شدید حضرت مسیح کے اُنکے اس ملک میں آنے کے لئے پیش خیمہ تھا۔اور دونوں امور متذکرہ بالا کے بعد کسی منصف مزاج کو اس بات کی حاجت نہیں رہتی کہ وہ بدھ مذہب کی ایسی کتابوں کو تلاش کرے جن میں لکھا ہوا ہو کہ حضرت مسیح تبت کے ملک میں آئے تھے۔کیونکہ جبکہ بدھ کی پیش گوئی کے مطابق آنے کی انتظار شدید تھی تو وہ پیشگوئی اپنی کشش سے حضرت سیج کو ضرور تبت کی طرف کھینچ لائی ہوگی۔اور یاد رکھنا چاہئے ہمتی کا نام جو بدھ کی کتابوں میں جا بجا مذکور ہے بلاشبہ وہ مسیحا ہے۔کتاب تبت تا تار گولیا بائی ایچ ٹی پر نسب کے صفحہ ہم میں مقیا بدھ کی نسبت ہو در اصل مسیحا ہو۔یہ لکھا ہو کہ جو حالات ان پہلے مشنریوں (عیسائی واعظوں نے تبت میں جاکر اپنی آنکھوں سے دیکھے اور کانوں سے سنے۔اُن حالات پر غور کرنے سے وہ اس نتیجہ یک پہنچ گئے کہ لاموں کی قدیم کتب میں عیسائی مذہب کے آثار موجود ہیں۔اور پھر اسی صفحہ میں لکھا ہے کہ اس میں کچھ شک نہیں کہ وہ متقدمین یہ خیال کرتے ہیں کہ حضرت مسیح کے سواری ابھی زندہ ہی تھے کہ جبکہ عیسائی دین کی تبلیغ اس جگہ پہنچ گئی تھی اور پھر اے اصفحہ میں لکھا ہے کہ اس میں کچھ شک نہیں کہ اُس وقت عامہ انتظار ایک بڑے منبتی کے پیدا ہونے کی لگ رہی تھی جس کا ذکرٹے سے ٹیس نے اس طرح پر کیا ہے کہ اس انتظار کا مدار نہ صرف یہودی تھے بلکہ خود بدھ مذہب نے ہی اس انتظار کی بنیاد ڈالی تھی لینے اس ملک میں متیا کے آنے کی پیش گوئی کی