مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 303 of 632

مسیحی انفاس — Page 303

۳۰۳ کا فاصلہ ہے لیکن حضر شیخ نے بڑی عقلمندی سے افغانستان کا راہ اختیار کیا تا اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑیں جو افغان تھے فیضیاب ہو جائیں۔اور کشمیر کی مشرقی صد ملک تبت سے متصل ہے اس لئے کشمیر میں آکر بآسانی تبت میں جاسکتے تھے۔اور پنجاب میں داخل ہو کر انکے لئے کچھ مشکل نہ تھا کہ قبل اس کے جو کشمیر اور تبت کی طرف آویں ہند وستمان کے مختلف مقامات کا سیر کریں۔سو جیسا کہ اس ملک کی پرانی تاریخیں بتلاتی ہیں یہ بات بالکل قرین قیاس ہے کہ حضرت مسیح نے نیپال اور بنارس وغیرہ مقامات کا سیر کیا ہو گا اور پھر جموں سے یا راولپنڈی کی راہ سے کشمیر کی طرف گئے ہوں گے۔چونکہ وہ ایک سمر ملک کے آدمی تھے۔اس لئے یہ یقینی امر ہے کہ ان ملکوں میں غالباً وہ صرف جاڑے تک ہی ٹھہرے ہونگے اور اخیر مارچ یا اپریل کے ابتدا میں کشمیر کی طرف کوچ کیا ہو گا اور یونکہ وہ ملک بلاد شام سے بالکل مشابہ ہے اس لئے یہ بھی یقینی ہے کہ اس ملک میں سکونت مستقل اختیار کر لی ہوگی۔اور ساتھ اس کے یہ بھی خیال ہے کہ کچھ حصہ اپنی عمر کا افغانستان میں بھی رہے ہوں گے اور کچھ بعید نہیں کہ وہاں شادی بھی کی ہو۔افغانوں میں ایک قوم عیسی خیل کہلاتی ہے۔کیا تجوب ہے کہ وہ حضرت عیسی کی ہی اولاد ہوں۔مگر افسوس کہ افغانوں کی قوم کا تاریخی شیرازہ نہایت درہم برہم ہے اسلئے ان کے قومی تذکروں کے ذریعہ سے کوئی اصلیت پیدا کرنا نہایت مشکل امر ہے۔بہر حال اس میں کچھ بھی شک نہیں کہ افتان بنی اسرائیل میں سے ہیں جیسا کہ کشمیری بھی بنی اسرائیل میں سے ہیں۔اور جن لوگوں نے اپنی تالیفات میں اس کے برخلاف لکھا ہے انہوں نے سخت دھوکا کھایا ہے اور فکر دقیق سے کام نہیں لیا۔افغان اس بات کو مانتے ہیں کہ وہ قیس کی اولاد میں سے ہیں اور قیس بنی اسرائیل میں سے ہے۔خیر اس جگہ اس بحث کو طول دینے کی ضرورت نہیں۔ہم اپنی ایک کتاب میں اس بحث کو کامل طور پر لکھ چکے ہیں۔اس جگہ صرف حضرت مسیح کی سیاحت کا ذکر ہے جو نصیبین کی راہ سے افغانستان میں ہو کر اور پنجاب میں گذ کر کشمیراور تب تک ہوئی۔اسی لیے سفر کی وجہ سے آپکے نام نبی ستلاح