مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 294 of 632

مسیحی انفاس — Page 294

یہ وہ کتابیں ہیں جن کومیں نے بطور نمونہ اس جگہ لکھا ہے۔اور یہ بات اہل علم اور خاصکر طبیبوں پر پوشیدہ نہیں ہے کہ اگر ان میں ایسی کتابیں ہیں جو پہلے زمانہ میں اسلام کے بڑے بڑے مدرسوں میں پڑھائی جاتی تھیں اور یورپ کے طالب العلم بھی ان کو پڑھتے تھے اور یہ کہنا بالکل سچ اور مبالغہ کی ایک ذرہ آمیزش سے بھی پاک ہے کہ ہر ایک صدی میں قریباً کرو ڑ ہ انسان ان کتابوں کے نام سے واقف ہوتے آئے ہیں اور لاکھوں انسانوں نے ان کو اول سے آخر تک پڑھا ہے اور ہم بڑے زور سے کہ سکتے ہیں کہ یورپ اور ایشیا کے عالم لوگوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں کہ ان بعض عظیم الشان کتابوں کے نام سے ناواقف ہو جو اس فہرست میں درج ہیں جس زمانہ میں ہسپانیہ اور کیس منو اور شیر نم دار اسلم تھے اس زمانہ میں بوعلی سینا کی کتاب قانون جوطب کی ایک بڑی کتاب ہے جس میں مریم عیسی کا نسخہ ہے اور دوسری کتابیں شفا اور انشارات اور بشارات جو طبیعی اور مہیئت اور فلسفہ وغیرہ میں ہیں بڑے شوق سے اہل یورپ دیکھتے تھے۔اور ایسا ہی سرنا راہی اور ابو کیکان اور اسرائیل اور ثابت بن قره اور جنین بن اسحاق وغیرہ فاضلوں کی کتابیں اور انکی یونانی سے ترجمہ شدہ کتابیں پڑھائی جاتی تھیں یقینا ان کتابوں کے ترجمے یورپ کے کسی حصہ میں اب تک موجود ہونگے۔اور چونکہ اسلام کے بادشاہ علم طب وغیرہ کو ترقی دینا بدل چاہتے تھے اسی وجہ سے انہوں نے یونان کی عمدہ عمدہ کتابوں کا ترجمہ کرایا اور عرصہ دراز تک ایسے بادشاہوں میں خلافت رہی کہ وہ ملک کی توسیع کی نسبت علم کی توسیع زیادہ چاہتے تھے انہی وجوہ اور اسبا ہے انہوں نے نہ صرف یونانی کتابوں کے ترجمے عربی میں کرائے بلکہ ملک ہند کے فاضل پنڈتوں کو بھی بڑی بڑی تنخواہوں پر طلب کر کے طب وغیرہ علوم کے بھی ترجمے کرائے۔پس اُنکے احسانوں میں سے حق کے طالبوں پر یہ ایک بڑا احسان ہے جو انہوں نے اُن ہسپانیہ لینے اندلس یک منو یعنے قسلمونیہ۔ستیر نم لینے شنترین - مناظر ۲۹۴