مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 230 of 632

مسیحی انفاس — Page 230

كلمات كرقية، وأعكف على هذا العمل إلى بضع ساعة، فتهيج في الحلي ثورة مزية، وكل حلية تربو وتنمو ولزيادات فيها تبدو حتى تكون الحلى مائة أمثالها، وتنزل عليها بركات بكمالها، وتعجب الناظرين۔ولا تعجبوا لهذا الحديث فإن فيه سِرِّكسِرِّ التثليث، فلا تسئلوني عن دلائل كفلسفين۔العمل عجيب والوقت قريب، وتكونون من بعد قوما منتعمين۔فاغتروا بقول الكاذب المكار، وحسبوا هذا العمل كالتثليث من الأسرار، بما لكزهم حمار الجهل الجذار، وبترهم سيف الشح البتار۔فألقت في الضلالة الثانية الضلالات الأولى، وتكونت من ظلمة أخرى۔فمالوا إليه كما كانوا مالوا الى عقائد المسيحيين۔۔قالوا : ما نشق عصا أمرك، وما نلغي تلاوة شكرك ، وقد أتيتنا من الغيب كملائكة منجيين۔فبادروا إلى بيوتهم في فكر قوتهم وتنضير سبروتهم، وما شكوا وما تقاعسوا ، بل كل منهم ذهب ليأتى به الذهب، وزاب ليزداب، وكانوا في سكرة حرصهم كالمجانين۔فلما دخلوا ربوعهم مرحاً قالوا لأهلها : انعموا صباحا ، ثم قصوا عليهم القصة ، کرتا رہوں گاتب زیور میں ایک جوش بڑھنے کا پیدا ہو گا اور ہریک زیور پھولے گا اور بڑھے گا اور ان کا بڑھنا صاف معلوم ہو جائے گا یہاں تک کہ وہ زیور سو گنا ہو جائے گا۔اور اس پر کامل برکتیں نازل ہوں گی اور دیکھنے والے تعجب کریں گے۔اور اس عمل سے کچھ تعجب مت کرو کیونکہ یہ بھی ایک ایسا ہی بھید ہے جیسا کہ تثلیث کا بھید سو تم فلسفیوں کی طرح اس کے دلائل مت پوچھو۔عمل عجیب ہے اور وقت قریب ہے اور تم بعد اس کے بڑے مالدار ہو جاو گے پس وہ لوگ اس فریبی کی بات پر دھوکا کھا گئے کیونکہ جہالت کا گدھا ان کو ایسی لات مار چکا تھا جو کاٹنے والی تھی اور لالچ کی تلوار ان کو دو ٹکڑے کر چکی تھی سو ایک گمراہی نے ان کو دوسری گمراہی میں ڈال دیا اور ایک اندھیرے سے دوسرا اندھیرا پیدا ہو گیا۔پس اس کی طرف ایسے مائل ہو گئے جیسا کہ وہ مسیحی عقیدوں کی طرف مائل تھے۔اور کہا ہم تیرے حکم کا انکار نہیں کرتے اور تیرے شکر کو ہم نہیں چھوڑیں گے۔اور تو تو ہمارے لئے غیب سے ایسا اترا جیسا کہ فرشتے نجات دینے والے آسمان سے اترتے ہیں پھر وہ لوگ اپنے گھروں کی طرف دوڑے اس فکر میں کہ قوت کا سامان ہو جائے اور زمین خشک سرسبز ہو جائے اور کچھ شک نہ کیا اور نہ تاخیر کی بلکہ ہر ایک ان میں سے دوڑا تاکہ سونا لا دے اور چلنے میں جلدی کی تاکہ وہ کچھ بھار اٹھا لیوے اور اپنی حرص کے نشہ میں سودائیوں کی طرح ۲۳۰