مسیحی انفاس — Page 229
۲۲۹ بخديعته، وجاءوا تحت فخة بصفيره وزفرته فكلّمهم بأحاديث ملفقة وأكاذيب مزخرفة، وقال: مالي يأخذني رقة عليكم، وينوى قلبي إليكم، لعل الله قدر لكم حظا في منهلي ونزلا في منزلي، وأراد أن يجعلكم من المتمولين۔وقد كنت أعلم أنكم من أكرم جرثومة وأطهر أرومة ومن أبناء بناة المجد أرباب الجد والآن أراكم بصفر اليد، فأُلْقِي في قلبي أن أرحمكم وأشفق عليكم، وأقوم لمواساتكم ودفع أفاتكم، وكذلك وقعت شيمتي، واستمرت عادتي، وخير الناس من ينفع الناس، ويعين ذوى الفاقات والمساكين۔وستعجمون عود دعواي وحلاوة جناي وأني لمن الصادقين فكلوا هنيئا مريئا هذه المائدة الواردة واستقبلوا هذه الدولة الحاردة وخذوا تلك الغنيمة الباردة شاكرين۔فاذهبوا سارعين مبادرين إلى بيوتكم، لتعطوا أجر قنوتكم، وأتوني بما كان عندكم من آثار مال بقى من زوال من نوع حلية من ذهب كان أو فضة، أو حلي جيرانكم وخلانكم ، ولا تتركوا شيئا منها وارجعوا مستعجلين واني أقرأ عليها پھنس گئے اور اس کے فریب میں آگئے اور اس کی سیٹی سن کر اس کے جال کے نیچے آ بیٹھے۔سوور کہیں کی کہیں لگا کر جھوٹی باتیں سنانے لگا اور کہنے لگا کہ کیا سبب ہے کہ مجھ کو تم پر بڑا ہی رحم آتا ہے شاید خدا تعالیٰ نے میرے چشمہ میں تمہاری کچھ قسمت لکھی ہے۔اور میرے مہمانخانہ میں تمہاری مہمانی مقدر ہے اور شاید خدا تعالیٰ نے چاہا کہ تم کو مالدار کر دے۔اور مجھے پہلے سے معلوم ہے کہ تم لوگ بڑے خاندان کے آدمی اور اصیل ہو اور نیز رئیسوں کے بیٹے اور دولتمندوں کی اولاد ہو اور اب تم کو افلاس کی حالت میں دیکھتا ہوں سو میرے دل میں ڈالا گیا جو میں تم پر رحم اور شفقت کروں اور تمہاری ہمدردی کے لئے کھڑا ہو جاوں۔اور اسی طرح میری عادت ہے کیونکہ نیک آدمی وہی ہوتا ہے جو لوگوں کو نفع پہنچا دے اور مسکین لوگوں کی مدد کرے۔اور تم عنقریب میرے دعوی کی شاخ کا پھل آزمالو گے اور میرے پھل کی حلاوت تمہیں معلوم ہو جائے گی اور میں سچا ہوں سو تم اس کھانے کو جو اترا ہے خوب سیر ہو کر مزہ سے کھلو اور اس دولت کی طرف رخ کرو جس نے تمہاری طرف آنے کا قصد کیا اور اس مال مفت کو شکر کے ساتھ لے لو۔سو اپنے گھروں کی طرف جلدی کر کے دوڑو تاکہ تم کو اس فرمانبرداری کا اجر ملے اور میرے پاس وہ سب مال لے آو جو از قسم زیور چاندی اور سونے کے تمہارے گھروں میں باقی رہ گیا ہو اور اپنے ہمسائیوں اور دوستوں کے بھی زیور لے آو اور اپنے گھروں میں کچھ بھی نہ چھوڑو اور پھر جلد واپس آجاو۔اور میں ان زیوروں پر ایک منتر پڑھوں گااور چند گھنٹے وہی عمل