مسیحی انفاس — Page 213
٢١٣ یہودیوں کے ہاتھوں صلیب لٹکایا جا کر جو ملعون ہو چکا ہے۔اس کی لعنت نے ہم کو ایک کی موت دو سر ہے کی زندگی کاذریعہ کیونکر برکت دی۔یہ عجیب فلاسفی ہے کہ جو کسی زمانہ اور عمر میں سمجھی نہیں جا سکتی۔لعنت ٹھہر سکتی ہے؟ برکت کا موجب کیونکر ہو سکتی ہے اور ایک کی موت دوسرے کی زندگی کا ذریعہ کیونکر ٹھرتی ہے ؟ ہم عیسائیوں کے طریق علاج کو عقلی دلائل کے معیار پر بھی پرکھنے کی ضرورت نہ سمجھتے۔اگر کم از کم عیسائی دنیا میں یہ نظر آتا کہ وہاں گناہ نہیں ہے لیکن جب یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہاں حیوانوں سے بھی بڑھ کر ذلیل زندگی بسر کی جاتی ہے۔تو ہم کو اس طریق انسداد گناہ پر اور بھی حیرت ہوتی ہے اور کہنا پڑتا ہے کہ اس سے بہتر تھا کہ یہ کفارہ نہ ہوا ہوتا۔جس نے اباحت کا دریا چلا دیا۔اور پھر اس کو معافی گناہ سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ملفوظات۔جلد ۳ صفحه ۳۵۱ IMI یہ ہنسی کی بات ہے کہ کوئی شخص دوسرے کے سرور و پر رحم کر کے اپنے سر پر پتھر مار لے۔یادوسرے کے بچانے کے خیال سے خود کشی کرتے۔میرے خیال میں ہے کہ دنیا میں کوئی ایسا دانا نہیں ہو گا کہ ایسی خود کشی کو انسانی ہمدردی میں خیال کر سکے۔بیشک یہ انہی کی بات ہے کہ انسانی ہمدردی عمدہ چیز ہے۔اور دوسروں کے بچانے کے لئے تکلیف اٹھانا بڑے کوئی شخص دوسرے کے سرور و پر رحم کر بہادروں کا کام ہے۔مگر کیا ان تکلیفوں کے اٹھانے کی یہی راہ ہے جو یسوع کی نسبت کے اپنے سرپر پتھر مار بیان کیا جاتا ہے۔کاش اگر یسوع خود کشی سے اپنے تئیں بچاتا اور دوسروں کے آرام کے لے لئے معقول طور پر عقلمندوں کی طرح تکلیفیں اٹھاتا۔تو اس کی ذات سے دنیا کو فائدہ پہنچ سکتا تھا۔مثلاً اگر ایک غریب آدمی گھر کا محتاج ہے اور معمار لگانے کی طاقت نہیں رکھتا تو اس صورت میں اگر ایک معمل اس پر رحم کر کے اس کا گھر بنانے میں مشغول ہو جائے اور بغیر لینے اجرت کے چندروز سخت مشقت اٹھا کر اس کا گھر بنا دیوے تو بیشک یہ معمل تعریف کے قابل ہو گا۔اور بیشک اس نے ایک مسکین پر احسان بھی کیا ہے جس کا گھر بنادیا۔لیکن اگر وہ اس شخص پر رحم کر کے اپنے سر پر پتھر مار لے تو اس غریب کو اس سے کیا فائدہ پہنچے گا۔افسوس دنیا میں بہت تھوڑے لوگ ہیں جو نیکی اور رحم کرنے کے معقول طریقوں پر چلتے ہیں۔اگر یہ سچ ہے کہ یسوع نے اس خیال سے کہ میرے مرنے سے لوگ نجات پا جائیں گے در حقیقت خود کشی کی ہے تو یسوع کی حالت