مسیحی انفاس — Page 203
۲۰۳ ہے کہ مسیح کا خون نجات دیتا ہے۔سب سے اول یہ دیکھنا ضروری ہے کہ نجات ہے کیا چیز ؟ نجات کی حقیقت تو یہی ہے کہ انسان گناہوں سے بچ جاوے۔اور جو فاسقانہ خیالات آ آکر دل کو سیاہ کرتے ہیں۔ان کا سلسلہ بند ہو کر کچی پاکیزگی پیدا ہو۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ عیسائیوں نے گناہ سے بچنے کی ضرورت کو محسوس کیا اور اس سے فائدہ اٹھا کر نجات طلب لوگوں کے سامنے یہ پیش کر دیا۔کہ مسیح کا خون ہی ہے جو گناہوں سے بچا سکتا ہے۔مسیح کے خون اور گناہ مگر ہم کہتے ہیں کہ اگر مسیح کا خون یا کفارہ انسان کو گناہوں سے بچا سکتا ہے تو سب کے علاج میں کوئی رشتہ سے پہلے ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ کفارہ میں اور گناہوں سے بچنے میں کوئی رشتہ بھی ہے یا نہیں ؟ جب ہم غور کرتے ہیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں میں باہم کوئی رشتہ اور تعلق نہیں۔مثلاًاگر ایک مریض کسی طبیب کے پاس آوے تو طبیب اس کا علاج کرنے کے بجائے اسے یہ کہہ دے تو میری کتاب کا جزو لکھ دے۔تیرا علاج یہی ہے۔تو کون عقلمند اس علاج کو قبول کرے گا۔پس مسیح کے خون اور گناہ کے علاج میں اگر یہی رشتہ نہیں ہے تو اور کون سارشتہ ہے یا یوں کہو کہ ایک شخص کے سر میں درد ہوتا ہو۔اور دوسرا آدمی اس پر رحم کھا کر اپنے سر میں پتھر مار لے اور اس کے دردسر کا اسے علاج تجویز کر لے۔یہ کیسی ہنسی کی بات ہے۔پس ہمیں کوئی بتادے کہ عیسائیوں نے ہمارے سامنے پیش کیا کیا ہے۔جو کچھ وہ پیش کرتے ہیں وہ تو ایک قابل شرم بناوٹ ہے۔گناہوں کا علاج کیا؟ یسوع کی خود کشی جس کو گناہوں سے پاک ہونے کے واسطے کوئی حقیقی رشتہ بھی نہیں۔ہم بارہا حیران ہوتے ہیں کہ حضرت مسیح کو یہ سوجھی کیا ؟ جو دوسروں کو نجات دلانے کے لئے آپ صلیب اختیار کی۔اگر وہ اس صلیب کی موت سے جو لعنت تک لے جاتی ہے اور عیسائیوں کے قول اور اعتقاد کے موافق کفارہ کے لئے لعنتی ہو جانا ضروری ہے کیونکہ وہ گناہوں کی سزا ہے ) اپنے آپ کو بچاتے اور کسی معقول طریق پر بنی نوع کو فائدہ پہنچاتے تو وہ اس خود کشی سے بدرجہا بہتر اور مفید ہوتا۔غرض کفارہ کے ابطال پر یہ زبر دست دلیل ہے اور کفارہ میں باہم کوئی رشتہ نہیں۔پھر دوسری دلیل اس کے باطل ہونے پر یہ ہے کہ کفارہ نے اس فطری خواہش کو گناہوں سے بچنے کی فطری خواہش کو کفارہ کہ گناہوں سے انسان بچ جاوے۔کہاں تک پورا کیا۔اس کا جواب صاف ہے کہ کچھ نے کہاں تک پورا کیا بھی نہیں۔چونکہ تعلق کوئی نہ تھا۔اس لئے کفارہ گناہوں کے اس جوش اور سیلاب کو