مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 202 of 632

مسیحی انفاس — Page 202

۲۰۲ 146 عیسائی مذہب کے کفارہ نے ایسی بے قیدی کر دی ہے کہ جو گناہ چاہو کر لو سزا تو یسوع بھگتے گا۔اسی واسطے ضرب المثل ہو گئی ہے کہ عیسائی باش ہرچہ خواہی کن۔کفاره گناه پیدا کرتا کیونکہ اگر زنا اور شراب حرام ہے تو پھر کفارے سے فائدہ کیا ؟ کفارے کا یہی تو فائدہ ہے کہ اس نے معافی کی ایک راہ کھول دی ہے۔اگر عیسائی بھی گناہ کرنے سے پکڑا جاتا ہے ہوا ؟ IMA جیسا کہ غیر عیسائی پکڑا جاتا ہے تو پھر دونوں میں فرق کیا ہوا ؟ اور کسی کو عیسائی بننے سے فائدہ کیا حاصل ہوا ؟ ملفوظات۔جلد ۹ صفحه ۳۲۷، ۳۲۸ کفارہ اس وجہ سے بھی باطل ہے کہ اس سے یا تو یہ مقصود ہو گا کہ گناہ بالکل سرزد نہ ہوں اور یا یہ مقصود ہو گا کہ ہر ایک قسم کے گناہ خواہ حق اللہ کی قسم میں سے اور خواہ حق کفارہ سے فائدہ کیا العباد کی قسم میں سے ہوں کفارہ کے ماننے سے ہمیشہ معاف ہوتے رہتے ہیں۔سو پہلی شق تو صریح البطلان ہے کیونکہ یورپ کے مردوں اور عورتوں پر نظر ڈال کر دیکھا جاتا ہے کہ وہ کفارہ کے بعد ہر گز گناہ سے بچ نہیں سکے اور ہر ایک قسم کے گناہ یورپ کے خواص اور عوام میں موجود ہیں۔بھلا یہ بھی جانے دو نبیوں کے وجود کو دیکھو جن کا ایمان اوروں سے زیادہ مضبوط تھاوہ بھی گناہ سے بچ نہ سکے۔جواری بھی اس بلا میں گرفتار ہو گئے۔پس اس میں کچھ شک نہیں کہ کفارہ ایسا بند نہیں ٹھہر سکتا کہ جو گناہ کے سیلاب سے روک سکے۔رہی یہ دوسری بات کہ کفارہ پر ایمان لانے والے گناہ کی سزا سے مستثنیٰ رکھے جائیں گے خواہ وہ چوری کریں یا ڈا کہ ماریں خون کریں یا بد کاری کی مکروہ حالتوں میں مبتلار ہیں تو خدا ان سے مواخذہ نہیں کرے گا۔یہ خیال بھی سراسر غلط ہے جس سے شریعت کی پاکیزگی سب اٹھ جاتی ہے اور خدا کے ابدی احکام منسوخ ہو جاتے ہیں۔کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۵۹، ۲۰ گناہوں سے بچنے کے واسطے ہر قوم نے کوئی نہ کوئی ذریعہ قرار دیا ہے۔اور کوئی حیلہ نکالا ہے۔عیسائیوں نے اس عام ضرورت اور سوال سے فائدہ اٹھا کر ایک حیلہ پیش کیا