مسیحی انفاس — Page 169
۱۶۹ غرض ایک مشکل تو یہودیوں کو یہ پیش آئی کہ مسیح مصلوب ہو گیا اور صلیب کی نے ان کے کذب پر ایک اور رنگ چڑھا دیا۔کیونکہ وہ توریت میں پڑھ چکے تھے کہ جھوٹا ہے نبی صلیب پر لٹکایا جاتا ہے اور وہ ملعون ہوتا ہے۔پس انہوں نے یہ خیال کیا کہ ایک ۱۴۰ طرف تو ایلیا آیا نہیں اور یہ مسیح ہونے کا مدعی ہے اور ایلیا کے قصے پر جو فیصلہ دیتا ہے وہ جو خود لعنتی ہو گیا وہ بظاہر ملاکی نبی کی کتاب کے مخالف ہے۔اس لئے کاذب کی مخالفت اور خود مسیح کے طرز دونوں ہی یہ کیسے ہو کا شفیع عمل اور سلوک نے یہودیوں کو اور بھی بر افروختہ کر دیا تھا۔جب وہ ان کو حرامکار سانپ سکتا ہے؟ اور سانپ کے بچے کہہ کر پکارتے تھے پس انہوں نے صلیب کے لئے کوشش کی اور جب صلیب پر چڑھا دیا تو ان کے پہلے خیال کو اور بھی مضبوطی ہو گئی کیونکہ انہوں نے دیکھا کہ یہ صلیب پر لٹکایا جا کر لعنتی ہو گیا ہے اس لئے سچا نہیں ہے۔اب انہوں نے یہ یقین کر لیا کہ جب یہ خود لعنتی ہو گیا تو دوسروں کا شفیع کیسے ہو سکتا ہے۔صلیب نے اس کے کاذب ہونے پر مہر لگادی دو گواہوں کے ساتھ انسان پھانسی پاسکتا ہے انہوں نے اس وقت بھی کہا کہ اگر تو سچا ہے تواتر آنگر وہ اگر نہ سکا۔اس امر نے ان کو اور بد ظن کر دیا۔ملفوظات۔جلد ۳ صفحه ۱۶۶ منکر تھے۔حضرت عیسی علیہ السّلام تو عجیب طور پر جاہلوں کا نشانہ ہوئے ہیں۔ان کی زندگی کے زمانہ میں تو یہود بے دین نے ان کا نام کافر اور کذاب اور مکار اور مفتری رکھا اور ان کے رفع روحانی سے انکار کیا۔اور پھر جب وہ فوت ہو گئے تو ان لوگوں نے جن پر انسان یہودی رفع روحانی کے پرستی کی سیرت غالب تھی ان کو خدا بنادیا اور یہودی تو رفع روحانی سے ہی انکار کرتے تھے اب بمقابل ان کے رفع جسمانی کا اعتقاد ہوا اور یہ بات مشہور کی گئی کہ وہ مع جسم آسمان پر چڑھ گئے ہیں۔گویا پہلے نبی تو روحانی طور پر بعد موت آسمان پر چڑھتے تھے۔مگر حضرت عیسی زندہ ہونے کی حالت میں ہی مع جسم مع لپاس مع تمام لوازم جسمانی کے آسمان پر جابیٹھے گویا یہ یہودیوں کی ضد اور انکار کا جو رفع روحانی سے منکر تھے نہایت مبالغہ کے ساتھ ایک جواب تراشا گیا۔اور یہ جواب سراسر نا معقول تھا۔کیونکہ یہودیوں کو رفع جسمانی سے کچھ غرض نہ تھی ان کی شریعت کا یہ مسئلہ تھا کہ جولوگ صلیب پر مرتے ہیں وہ لعنتی اور کافر اور بے ایمان ہوتے ہیں۔ان کا رفع روحانی خدا تعالی کی طرف نہیں