مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 168 of 632

مسیحی انفاس — Page 168

IYA IPA نہ بد اخلاق اور بد سرشت اور بد اندیش اور بد کردار ہیں۔ایسا ہی بمقابلہ ان کے بعض دوسرے لوگ فطر تا دل کے غریب نیک خلق نیک چلن نیک کردار ہیں۔اس قانون قدرت سے نہ ہند و باہر ہیں نہ پارسی نہ یہودی نہ سکھ نہ بدھ مذہب والے یہاں تک کہ چوہڑے اور چمار بھی اسی قانون میں داخل ہیں۔سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کے جوابات روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۳۳۶ تا ۳۳۹ یہ بات کہ اس لعنتی موت پر مسیح خود راضی ہو گیا تھا اس دلیل سے رد ہو جاتی ہے کہ مسیح نے باغ میں رو رو کر دعاکی کہ وہ پیالہ اس سے مل جائے۔اور پھر صلیب پر کھینچنے کے کے لئے راضی کر تے وقت چیخ مار کر کہا کہ ایلی ایلی لما سبقتنی یعنی اے میرے خدا اے میرے خدا تو نے مجھے حضرت مسیح احنتی موت کیوں چھوڑ دیا۔اگر وہ اس صلیبی موت پر راضی تھا تو اس نے کیوں دعائیں کیں اور یہ خیال کہ مسیح کی صلیبی موت خدا تعالیٰ کی طرف سے مخلوق پر ایک رحمت تھی اور خدا نے خوش ہو کر ایسا کام کیا تھا ا د نیا سیح کے خون سے نجات پاوے۔تو یہ و ہم اس دلیل سے رد ہو جاتا ہے کہ اگر در حقیقت اس دن رحمت الہی جوش میں آئی تھی تو کیوں اس دن سخت زلزلہ آیا یہاں تک کہ ہیکل کا پردہ پھٹ گیا اور کیوں سخت آندھی آئی اور سورج تاریک ہو گیا۔اس سے تو صریح معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ مسیح کو صلیب دینے پر سختہ تو پھر وہ یہود سخت اگر یہ خدا کی مرضی تھی ناراض تھا جس کی وجہ سے چالیس برس تک خدا نے یہودیوں کا پیچھانہ چھوڑا۔اور وہ کیوں ہوا؟ ای دور اور پر دارای طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا ر ہے۔اول سخت طاعون سے ہلاک ہوئے اور آخر طیطوس رومی کے ہاتھ سے ہزاروں یہودی مارے گئے۔حقیقة الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۶۰ حاشیه یسوع کا مصلوب ہونا اگر اپنی مرضی سے ہوتا تو خود کشی اور حرام کی موت تھی اور خلاف مرضی کی حالت میں کفارہ نہیں ہو سکتا اور یسوع اس لئے اپنے تئیں نیک نہیں لکھ مصلوب ہوتا مرضی سکا کہ لوگ جانتے تھے کہ یہ شخص شرابی کبابی ہے اور یہ خراب چال چلن نہ خدائی کے بعد بلکہ ابتدا ہی سے ایسا معلوم ہوتا ہے چنانچہ خدائی کا دعوی شراب خواری کا ایک بد نتیجه معیار المذاہب روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۸۵ حاشیه مرضی؟ تھا یا خلاف ہے۔