مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 150 of 632

مسیحی انفاس — Page 150

۱۵۰ کیا علاج ہے۔خدا کسی کو گناہ میں ہلاک کرنا نہیں چاہتا۔پھر اس صورت میں ان پر یہ اعتراض ہے کہ شیاطین کے گناہوں کا اس خدا نے ان شیاطین کی پلید روحوں کی نجات کے لئے کیا بندو بست کیا۔جن پلید روحوں کا ذکر انجیل میں موجود ہے۔کیا کوئی ایسا بیٹا بھی دنیا میں آیا۔جس نے شیاطین کے گناہوں کے لئے اپنی جان دی ہو یا شیاطین کو گناہ سے باز رکھا ہو۔اگر ایسا کوئی انتظام نہیں ہوا تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عیسائیوں کا خدا اس بات پر ہمیشہ راضی رہا ہے جو شیاطین کو جو عیسائیوں کے اقرار سے بنی آدم سے بھی زیادہ ہیں۔ہمیشہ کی جہنم میں جلادے۔پھر جب کہ ایسے کسی بیٹے کا نشان نہیں دیا گیا۔تو اس صورت میں تو عیسائیوں کو اقرار کرنا پڑا کہ ان کے خدا نے شیاطین کو جہنم کے لئے ہی پیدا کیا ہے۔غرض بے چارے عیسائی جب سے ابن مریم کو خدا بنا بیٹھے ہیں۔بڑی بڑی مصیبتوں میں پڑے ہوئے ہیں کوئی ایسا دن نہیں ہو گا کہ خود انہیں کی روح ان کے اس اعتقاد کو نفرت سے نہیں دیکھتی ہوگی۔پھر ایک اور مصیبت ان کو یہ پیش آئی ہے کہ اس مصلوب کی علت عالی عند التحقیق کچھ ثابت نہیں ہوتی۔اور اس کے صلیب پر کھینچے جانے کا کوئی صلیب پرکھنے جانے کا ثمرہ بپایہ ثبوت نہیں پہنچتا۔کیونکہ صورتیں صرف دو ہیں۔کوئی ثمرہ بیانیہ ثبوت ا (۱) اول یہ کو اس مرحوم بیٹے کے مصلوب ہونے کی علت غائی یہ قرار دیں کہ تا ں پہنچتا۔اپنے ماننے والوں کو گناہ کرنے میں دلیر کرے اور اپنے کفارے کے سہارے سے خوب زور شور سے فسق و فجور اور ہر یک قسم کی بدکاری پھیلا دے۔۔سو یہ صورت تو بہداہت نا معقول اور شیطانی طریق ہے۔اور میرے خیال میں دنیا میں کوئی بھی ایسا نہیں ہو گا کہ اس فاسقانہ طریق کو پسند کرے۔اور ایسے کسی مذہب کے بانی کو نیک قرار دے جس نے اس طرح پر عام آدمیوں کو گناہ کرنے کی ترغیب دی ہو۔بلکہ تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ اس طرح کا فتوی وہی لوگ دیتے ہیں جو در حقیقت ایمان اور نیک چلنی سے محروم رہ کر اپنے اغراض نفسانی کی وجہ سے دوسروں کو بھی بد کاریوں کے جنم میں ڈالنا چاہتے تھے اور یہ لوگ در حقیقت ان نجومیوں کے مشابہ ہیں جو ایک شارع عام میں بیٹھ کر راہ چلتے لوگوں کو پھلاتے اور فریب دیتے ہیں۔اور ایک ایک پیسہ لے کر بیچارے حمقاء کو بڑے تسلی بخش الفاظ میں خوشخبری دیتے ہیں کہ عنقریب ان کی ایسی ایسی نیک قسمت کھلنے والی ہے۔اور ایک نیچے محقق کی صورت بنا کر ان کے ہاتھ کے نقوش اور چہرہ کے خط و خال کو بہت توجہ سے دیکھتے بھالتے ہیں۔گویا وہ بعض نشانوں کا پتہ لگار ہے ہیں۔اور پھر ایک