مسیحی انفاس — Page 131
۱۱۴ عیسائیوں میں تثلیث کا مسئلہ تیسری صدی کے بعد ایجاد ہوا ہے۔جیسا کہ ڈریپر بھی کتاب میں بڑے بڑے علماء کے حوالہ سے لکھتا ہے موجد اس مسئلہ کا بشپ اتھا ناسی آس الگزنڈر ائن تھا جو صدی سوم کے بعد پیدا ہوا ہے۔جب اس نے یہ مسئلہ شائع کرنا چاہا تواسی وقت بشپ ایری آس اس کا منکر کھڑا ہو گیا۔اور یہاں تک اس مباحثہ میں عوام اور خواص کا مجمع ہوا کہ روم کے بادشاہ تک خبر پہنچ گئی۔اتفاقاً اس کو مباحثات توحید کی فتح۔سے دلچسپی تھی۔اس نے چاہا کہ اس اختلاف کو اپنے حضور میں ہی فریقین کے علماء سے رفع کرا دے۔چنانچہ اس کے اجلاس میں بڑی سرگرمی سے یہ مباحثات ہوئے اور نہایت لطف کے ساتھ کونسل کی کرسیاں بچھیں اور مناظرہ کرنے والے دو سو پچاس نامی پادری تھے۔آخر موحدین کا فرقہ جو یسوع کو محض انسان اور رسول جانتا تھا۔غالب آیا۔اسی دن بادشاہ نے یونی شیرین کا مذہب اختیار کیا اور چھ بادشاہ اس کے بعد موحد رہے۔چنانچہ جس قیصر کو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خط لکھا تھا۔جس کا ذکر صحیح بخاری میں پہلے صفحہ میں ہی موجود ہے۔وہ بھی موحد ہی تھا۔اس نے قرآن کے اس مضمون پر اطلاع پا کر کہ مسیح صرف انسان ہے تصدیق کی۔جیسا کہ نجاشی نے بھی جو عیسائی بادشاہ تھا۔قسم کھا کر کہا کہ یسوع کا رتبہ اس سے ذرہ زیادہ نہیں جو قرآن نے اس کی نسبت لکھا ہے۔مگر نجاشی اس کے بعد کھلا کھلا مسلمان ہو گیا۔آتھم۔روحانی خزائن جلدا اصفحه ۳۹ ۴۰۔حاشیہ ہم نے بار بار سمجھایا کہ عیسی پرستی بت پرستی اور رام پرستی سے کم نہیں اور مریم کا بیٹا کشلیتا کے بیٹے سے کچھ زیادت نہیں رکھتا۔مگر کیا کبھی آپ لوگوں نے توجہ کی۔یوں تو ۱۱۵ آپ لوگ تمام دنیا کے مذہبوں پر حملہ کر رہے ہیں۔مگر کبھی اپنے اس مثلث خدا کی نیسی پرستی ، بت نسبت بھی کبھی غور کی۔کبھی یہ خیال آیا کہ وہ جو تمام عظمتوں کا مالک ہے اس پر انسان پرستی اور رام پرستی کی طرح کیونکر دکھ کی مار پڑ گئی۔کبھی یہ بھی سوچا کہ خالق نے اپنی مخلوق سے کیونکر مار کھا سے کم نہیں۔لی۔کیا یہ سمجھ آسکتا ہے کہ بندے ناچیز اپنے خدا کو کوڑے ماریں اس کے منہ پر تھو کیں اس کو پکڑیں۔اس کو سولی دیں اور وہ مقابلہ سے عاجز رہ جائے۔بلکہ خدا کہلا کر پھر اس پر موت بھی آجائے۔کیا یہ سمجھ میں آسکتا ہے کہ تین مجستم خدا ہوں ایک وہ نجستم جس کی