مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 114 of 632

مسیحی انفاس — Page 114

۱۱۴ لگے اور خدا کو باپ کر کے پکارا نہ جائے اور اگر کوئی کہے کہ پھر باپ سے کم درجہ کی محبت ہوئی تو اس اعتراض کے رفع کرنے کے لئے او اشدّ ذكرًا رکھ دیا۔اگر او اشدّ ذكرًا نہ ہو تا تو یہ اعتراض ہو سکتا تھا۔مگر اب اس نے اس کو حل کر دیا۔جو باپ کہتے ہیں وہ کیسے گرے کہ ایک عاجز کو خدا کہہ اٹھے۔بعض الفاظ ابتلا کے لئے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کو نصاری کا ابتلا منظور تھا۔اس لئے ان کی کتابوں میں انبیاء کی یہ اصطلاح تھہر گئی۔مگر چونکہ وہ حکیم اور علیم اس لئے پہلے ہی سے لفظ اب کو کثیر الاستعمال کر دیا۔مگر نصاری کی بدقسمتی کہ جب مسیح نے یہ لفظ بولا تو انہوں نے حقیقت پر حمل کر لیا اور دھوکا کھا لیا۔حالانکہ مسیح نے یہ کہہ کر کہ تمہاری کتابوں میں لکھا ہے کہ تم الہ ہو اس شرک کو مٹانا چاہا اوران کو سمجھانا چاہا مگر نادانوں نے پرواہ نہ کی۔اور ان کی اس تعلیم کے ہوتے ہوئے بھی ان کو ابن اللہ قرار دے ہی لملفوظات۔جلد ۳ صفحہ ۱۸۸ ی کی ہے کہ خدا ایک ہے اور ایک ہے اور میرا تو یہ نہیں ہے کہ اگر انجیل اور قرآن کریم اور تمام صحف انبیاء بھی دنیا میں نہ ہوتے تو بھی خدا تعالیٰ کی توحید ت تھی کیونکہ اس کے نقوش فطرت انسانی میں موجود ہیں۔خدا کے لئے بیٹا خدا کے لئے بیٹا تجویز تجویز کرنا گویا خدا تعالیٰ کی موت کا یقین کرنا ہے کیونکہ بیٹا تو اس لئے ہوتا ہے کہ کرنا گویا خدا تعالی کی موت کا یقین کر ہی وہ یاد گار ہو۔اب اگر مسیح خدا کا بیٹا ہے تو پھر سوال ہو گا کہ کیا خدا کو مرنا ہے ؟ مختصر یہ ہے کہ عیسائیوں نے اپنے عقائد میں نہ خدا کی عظمت کا لحاظ رکھا اور نہ قوائے انسانی کی قدر کی ہے۔اور ایسی باتوں کو مان رکھا ہے کہ جن کے ساتھ آسمانی روشنی کی تائید نہیں ہے۔ملفوظات۔جلدا صفحه ۳۳۱