مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 113 of 632

مسیحی انفاس — Page 113

١١٣ دنیا کی آفتوں سے ڈرایا گیا کیونکہ اس وقت وہ قومیں عالم معاد کی تفاصیل کو سمجھ نہیں سکتی تھیں۔پس جیسا کہ اس اجمال کا یہ نتیجہ ہوا کہ ایک قوم قیامت کی منکر یہود میں پیدا ہو گئی ایسا ہی باپ کے لفظ کا آخر کار یہ نتیجہ ہوا کہ ایک نادان قوم یعنی عیسائیوں نے ایک عاجز بندہ کو خدا بنا دیا مگر یہ تمام محاورات تنزل کے طور پر تھے۔چونکہ ان کتابوں کی تعلیم محدود تھی اور خدا تعالیٰ کے علم میں وہ تمام تعلیمیں جلد منسوخ ہونے والی تھیں۔اس لئے ایسے محاورات ایک سفلہ اور پست خیال قوم کے لئے جائز رکھے گئے اور پھر جب وہ کتاب دنیا میں آئی جو حقیقی نور دکھلاتی ہے تو اس روشنی کی کچھ حاجت نہ رہی جو تاریکی سے ملی ہوئی تھی اور زمانہ اپنی اصلی حالت کی طرف رجوع کر آیا اور تمام الفاظ اپنی اصلی حقیقت پر آگئے۔یہی بھید تھا کہ قرآن کریم بلاغت فصاحت کا اعجاز لے کر کیونکہ دنیا کو سخت حاجت تھی کہ زبان کی اصل وضع کا علم حاصل ہو۔پس قرآن کریم نے ہر یک لفظ کو اس کے محل پر رکھ کر دکھلا دیا اور بلاغت اور فصاحت کو ایسے طور سے کھول دیا کہ وہ بلاغت اور فصاحت دین کی دو آنکھیں بن گئیں۔من الر حمان - روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۱۵۵ تا ۱۵۹ - حاشیه 96 لفظ باپ یا فادر کی مفہوم میں ہر گز محبت کے معنے ماخوذ نہیں۔جس فعل کے شروع سے انسان یا کوئی اور حیوان باپ کہلاتا ہے اس وقت یہ خیل ہر گز نہیں ہوتا بلکہ باپ اور فادر کے محبت تو دیکھنے اور اس کرنے کے سے بعد میں رفتہ رفتہ پیدا ہوتی ہے لیکن ربوبیت کے معلوم میں محبت کے لئے محبت ابتداء ہی سے ایک لازمہ ہوتی ہے۔منہ من الر حمان - روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۱۵۵- حاشیه در حاشیه معنے ماخوذ نہیں۔١٩٨ خدا کے ساتھ محبت کرنے سے کیا مراد ہے؟ یہی کہ اپنے والدین۔جو رو۔اپنی اولاد۔اپنے نفس ، غرض ہر چیز ر اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم کر لیا جاوے۔چنانچہ قرآن شریف میں آیا ہے فاذکروا الله كذكركم آباءكم أو اشدّ ذكرًا معنی الله نصاری کا ابتلاء۔تعالیٰ کو ایسا یاد کرو کہ جیسا تم اپنے باپوں کو یاد کرتے ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ اور سخت درجہ کی محبت سے یاد کرو۔اب یہاں یہ امر بھی غور طلب ہے کہ خدا تعالیٰ نے یہ تعلیم نہیں دی کہ تم خدا کو باپ کہا کرو بلکہ اس لئے یہ سکھایا ہے کہ نصاری کی طرح دھو کہ نہ