مسیحی انفاس — Page 105
۱۰۵ ہے۔اور ابناء کا دوبارہ ذکر بھی نہیں کیا۔اس سے معلوم ہوا کہ یہودیوں کی کتابوں میں خدا کے پیاروں کو بیٹا کر کے بھی پکارتے تھے۔حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۶۵ تا ۶۷ اللہ تعالیٰ نے جو ہم کو مخاطب کیا ہے کہ انت منی بمنزلة اولادى - اس جگہ یہ تو نہیں کہا کہ تو میری اولاد ہے بلکہ یہ کہا ہے کہ بمنزلہ اولاد گے ہے یعنی اولاد کی طرح ہے۔اور دراصل یہ عیسائیوں کی اس بات کا جواب ہے جو وہ حضرت عیسی کو حقیقی طور پر ابن اللہ مانتے ہیں۔حالانکہ خدا تعالیٰ کی کوئی اولاد نہیں اور خدا تعالیٰ نے خدا کی اولاد سے کیا مراد یہودیوں کے اس قول کا عام طور پر کوئی رو نہیں کیا جو کہتے تھے کہ ہے۔نحن ابناؤا ادله واحباؤه - بلکہ یہ ظاہر کیا ہے کہ تم ان ناموں کے مستحق نہیں ہو۔دراصل یہ ایک محاورہ ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے برگزیدوں کے حق میں اکرام کے طور پر ایسے الفاظ بولتا ہے۔جیسا کہ حدیثوں میں ہے کہ میں اس کی آنکھ ہو جاتا ہوں اور میں اس کے ہاتھ ہو جاتا ہوں اور جیسا کہ حدیثوں میں ہے کہ اے بندے میں پیاسا تھا تو نے مجھے پانی نہ دیا۔اور میں بھو کا تھا تو نے مجھے روٹی نہ دنی۔ایسا ہی توریت میں جبھی لکھا ہے کہ یعقوب خدا کا فرزند بلکہ نخست زادہ ہے۔سو یہ سب استعارے ہیں جو عام طور پر خدا تعالیٰ کی عام کتابوں میں پائے جاتے ہیں۔اور احادیث میں ہے۔اور خدا تعالیٰ نے یہ الفاظ میرے حق میں اسی واسطے استعمال کئے ہیں تا عیسائیوں کا رو ہو۔کیونکہ باوجودان لفظوں کے میں کبھی ایسا دعوی نہیں کرتا کہ نعوذ باللہ میں خدا کا بیٹا ہوں بلکہ ہم ایسا دعوی کرنا کفر سمجھتے ہیں۔اور ایسے الفاظ جو انبیاء کے حق میں خدا تعالیٰ نے بولے ہیں۔ان میں سب سے زیادہ اور سب سے بڑا عزت کا خطاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا۔قل یعبادی جس کے معنے ہیں کہ اے میرے بندو۔اب ظاہر ہے کہ وہ لوگ خدا تعالی کے بندے تھے نہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بندے۔اس فقرہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسے الفاظ کا اطلاق استعارہ کے رنگ میں کہاں تک وسیع ہے۔ملفوظات۔جلد ۹ صفحه ۴۸۲، ۴۸۳