مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 104 of 632

مسیحی انفاس — Page 104

کہلاتے ہیں۔ایسا ہی عیسی بھی ہے تو ان پر کوئی اعتراض نہ ہوتا۔کیونکہ جیسا کہ استعارہ کے رنگ میں ان نبیوں کو پہلے نبیوں کی کتابوں میں بیٹا کر کے پکارا گیا ہے۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بعض پیش گوئیوں میں خدا کر کے پکارا گیا ہے۔اور اصل بات یہ ہے کہ نہ وہ تمام نبی خدا تعالیٰ کے بیٹے ہیں اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدا ہیں۔بلکہ یہ تمام استعارات ہیں محبت کے پیرایہ میں۔ایسے الفاظ خدا تعالیٰ کے کلام میں بہت ہیں۔انسان خدا تعالیٰ کی محبت میں ایسا محو ہوتا ہے جو کچھ بھی نہیں رہتا۔تب اسی فنا کی حالت میں ایسے الفاظ بولے جاتے ہیں۔کیونکہ اس حالت میں ان کا وجود درمیان نہیں ہوتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔قبل یعبادي الَّذِينَ أَسْرَفوا على انفسهم لا تقنطوا من رحمة الله إن الله يغفر الذنوب جميعا یعنی ان لوگوں کو کہہ کہ اے میرے بندو خدا کی رحمت سے نومید مت ہو خدا تمام گناہ بخش دے گا۔اب دیکھو اس جگہ یا عباد اللہ کی جگہ یا عبادی کہ دیا گیا حلانکہ لوگ خدا کے بندے ہیں نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بندے۔مگریہ استعارہ کے رنگ میں بولا گیا۔ایسا ہی فرمایا ان الذين يبايعونك انما يبايعون الله ، يدالله فوق ايديهم یعنی جو لوگ تیری بیعت کرتے ہیں وہ در حقیقت خدا کی بیعت کرتے ہیں۔یہ خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے۔اب ان تمام آیات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ خدا کا ہاتھ ٹھہرایا گیا۔مگر ظاہر ہے کہ وہ خدا کا ہاتھ نہیں ہے۔ایسا ہی ایک جگہ فرمایا فاذكر الله كذكركم آباءكم أو أشد ذكراء پس تم خدا کو یاد کرو جیسا کہ تم اپنے باپوں کو یاد کرتے ہو۔پس اس جگہ خدا تعالیٰ کو باپ کے ساتھ تشبیہ دی۔اور استعارہ بھی صرف تشبیہ کی حد تک ہے۔ایسا ہی خدا تعالیٰ نے یہودیوں کا ایک قول بطور حکایت عن الیہود قرآن شریف میں ذکر فرمایا ہے اور وہ یہ ہے کہ سخن ابنا واللهِ وَ احباره : یعنی ہم خدا کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں۔اس جگہ ابناء کے لفظ کا خدا تعالیٰ نے کچھ رہ نہیں کیا کہ تم کفر بکتے ہو۔بلکہ یہ فرمایا کہ اگر تم خدا کے پیارے ہو تو پھر وہ تمہیں کیوں عذاب دیتا ط ۱۰۴