حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں

by Other Authors

Page 21 of 27

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں — Page 21

38 37 غرض یہ شخص حضور کے چیلنج کے بعد شوخی اور شرارت میں بڑھ گیا اور حضور خدا تعالیٰ سے دعائیں کرتے رہے کہ خدا تعالیٰ بچے اور جھوٹے میں فرق کر کے دکھائے اور جھوٹے کو بچے کی زندگی میں ہلاک کرے۔اور پھر ڈوئی کے مرنے سے پندرہ دن پہلے خدا تعالیٰ نے حضور کو اس فتح کی اطلاع بھی دے دی۔اور ۲۰ فروری ۱۹۰۷ء کو ایک اشتہار میں شائع کر دیا کہ اللہ تعالیٰ ایک ایسا نشان دکھائے گا، جس میں فتح عظیم ہوگی اور یہ ساری دنیا کے لیے ایک نشان ہوگا۔اس کے پندرہ دن بعد ہی ڈوئی کی موت کی اطلاع آ گئی۔تو دیکھو بچو! خدا تعالیٰ کس طرح اپنے پیارے بندوں کی بات سنتا ہے ان کی دعائیں قبول کرتا ہے اور ان کے دوستوں کو تکلیفوں اور مصیبتوں سے بچاتا ہے۔اور ان کے دشمنوں کو تباہ اور برباد کرتا ہے اور ڈاکٹر ڈوئی کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا۔اور اگر ہم اس کی تباہی اور بر بادی کی پوری کہانی لکھنی شروع کریں تو یہ سارا واقعہ بہت لمبا ہو جائے گا۔بس اتنا سمجھ لو کہ اُس کی زندگی میں ہر طرف مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا وہ شخص جو بڑے بڑے نوابوں اور شہزادوں کی طرح معزز تھا وہ ہر رنگ میں ذلیل ہوا۔اُس کی بے ایمانی اور بددیانتی سب پر ثابت ہوگئی وہ کہا کرتا تھا کہ شراب پینا حرام ہے لیکن لوگوں کو پتہ چل گیا کہ خود شرابی ہے۔اس نے خود ایک شہر بسایا تھا جس کا نام میحون تھا وہاں سے بڑی ذلت کے ساتھ نکالا گیا جسے اس نے لاکھوں روپے خرچ کر کے آباد کیا تھا۔سات کروڑ روپے جو اس کے پاس تھے اس سے بھی اس کو جواب مل گیا۔اس کی بیوی اور اس کا اپنا بیٹا اس کے دشمن ہو گئے اور آخر میں اس پر فالج گرا اور لوگ اسے تختے کی طرح اٹھا کر لے جاتے رہے۔اس کے بعد وہ انہیں غموں سے پاگل ہو گیا اور یوں مارچ 1907 ء میں بڑے دکھ اور بڑی تکلیف اور مصیبت سے اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔اور اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی بڑی شان اور شوکت سے پوری ہوئی اور اس خبر کو امریکہ کے مشہور اخباروں نے بڑی بڑی سرخیوں کے ساتھ امریکہ میں شائع کر دیا۔یہ وہ پیشگوئیاں ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے شائع فرما ئیں اور اپنے وقت پر پوری ہوتی رہیں۔کچھ ہندو قوم کے لیے کچھ مسلمانوں کے لیے اور کچھ عیسائیوں کے لیے تھیں۔جیسا کہ آپ نے پیچھے پڑھا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیارے بندوں کے ساتھ محبت کرتا ہے۔اور روز مرہ کے چھوٹے چھوٹے واقعات سے معلوم ہوتا رہتا ہے کہ کس طرح وہ اپنے پیار اور محبت کے سلوک کا اظہار کرتا ہے۔اب ہم چند واقعات اسی قسم کے آپ کو سناتے ہیں۔www۔alislam۔org