مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 638 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 638

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں خوابوں کی تعبیر کے بیان میں 638 عکس حوالہ نمبر : 222 امت محمدیہ میں سلسلہ وحی والہام در جلد دوم خواب نیک ہے کہ دیکھتا ہے اس کو مسلمان یا فر ما یا دکھایا جاتا ہے اس کو یعنی من جانب اللہ۔فائدہ : اس باب میں عبادہ بن صامت ملی ان سے بھی روایت ہے۔یہ حدیث حسن ہے۔مترجم بشری قرآن عظیم الشان میں پندرہ جگہ آیا ہے اور منجملہ اس کے یہ آیت ہے کہ گیارھویں سپارے کے بارہویں رکوع میں واقع ہے ( لَهُمُ البشرى فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ) اور اختلاف کیا ہے مفسرین نے بشری میں کہ مراد اس سے کیا ہے پس ایک قول تو وہی جو اوپر گزرا ہے اور عبادہ بن صامت دین سے بھی یہی مروی ہے یعنی وہ خواب صالح سے اور ابو ہریرہ نیا شہر سے بھی ایک روایت میں آیا ہے۔اور دوسرا قول یہ ہے کہ مراد اس سے ثناء حسن ہے دنیا میں اور جنت ہے آخرت میں۔چنانچہ ابو ر میں خود سے منقول ہے کہ پوچھا انہوں نے رسول اللہ کالام سے کہ آدمی عمل کرتا ہے اپنے نفس کے لیے اور لوگ دوست رکھتے ہیں اس کو فر مایا آپ ﷺ نے: ((تلك عامل بشرع المومنین) یعنی یہ دنیا میں بشر کی ہے مؤمن کا۔اور زہری اور قتادہ سے مروی ہے کہ مراد اس سے نزول ملائکہ ہے ساتھ بشارت کے اللہ تعالی کی طرف موت کے قریب چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةُ أَنْ لَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ ) اور عطاء اللہ نے ابن عباس بھی ﷺ سے روایت کیا ہے کہ بشری دنیوی سے مراد ہے آنا فرشتوں کا قریب قرب موت کے بشارت کے ساتھ اور آخرت میں بعد خروج نفس مومن کے کہ لے چڑھتے ہیں اسے اللہ تعالیٰ کی طرف اور بشارت دیتے ہیں اسے رضوان الہی کی غرض یہ تیسرا اقول ہے اور چوتھا حسن بصری رویہ سے منقول ہے کہ مراد اس سے وہ بشارتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے لیے اپنی کتاب کریم میں فرمائی ہیں ثواب عظیم سے اور انواع نعیم سے جیسا ان آیوں نہیں ( وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ وَابْشِرُوْ بِالْجَنَّةِ إِلَى غَيْرِهَا مِنَ الْآيَاتِ )) (بغوی فقیر کہتاہے کہ تولین اولین موید الدین ہیں ہیں وہی اولی میں قبول کے لیے اگر چہ قولین آخرین میں بھی استدلال کتاب اللہ سے موجود ہے۔0000 (٢٢٧٤) عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ : قَالَ أَصْدَقُ الرُّؤْيَا بِالْأَسْحَارِ ))۔(ضعيف - الضعيفة : ۱۷۳۲) ان کی سند عبداللہ ابن لهيعه وراج عن ابی الھیثم کی وجہ سے ضعیف ہے۔روایت ہے ابو سعید میں للہ سے کہ نبی سنگھام نے فرمایا سب سے زیادہ بچے وہ خواب ہیں جو کر کے وقت دیکھے جائیں۔:مترجم: سحر چھٹا حصہ اخیر ہے رات کا اور وہ وقت ہے نزول برکات کا اور قبول ادعیات، اور ہوتا ہے اس وقت باری تعالیٰ شانہ آسمان اول پر، اور رجوع ہے تمام عالم قدس اور عالم ملکوت عالم شہادت کی طرف، اور نورانی ہوتے ہیں اس وقت دل اور نکتی ہیں اس وقت دعا ئیں صالحین کی ، اور مشغول بعبادت ہوتے ہیں اس وقت مخلصین بے ریا صاحبان اخلاص بندگان با وفا، پس ایسی تاثیر ہے اس وقت میں کہ اثر کر جاتی ہے نائین میں یعنی وہ صداقت ہے خوابوں کی پس جو فائدہ حاصل ہوگا اس وقت میں بیداروں کو کہ وہ کب تحریر میں آسکتا ہے۔155