مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 571 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 571

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 571 حديث لا نبی بعدی کا ہے کیونکہ آپ کے بعد اگر کوئی دوسرا نبی آجائے تو آپ خاتم الانبیاء نہیں ٹھہر سکتے۔۔۔حدیث لا نَبِيَّ بَعْدِی میں بھی نفی عام ہے۔پس یہ کس قدر جرات اور دلیری اور گستاخی ہے کہ خیالات رکیکہ کی پیروی کر کے نصوص صریحہ قرآن کو عمد ا چھوڑ دیا جائے اور خاتم الانبیاء کے بعد ایک نبی کا آناما نالیا جائے ““ ایام اصلح روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 392-393 ایڈیشن 2008) دوسرے معنی لَا نَبِيَّ بَعْدِی کے یہ ہو سکتے ہیں کہ رسول اللہ کے بعد آپ جیسا عظیم الشان نبی کوئی نہیں ہو گا۔اس صورت میں لا کے دوسرے معنی نفی کمال کے ہوں گے۔جیسے رسول اللہ کا فرمان ہے کہ جب کسری اور قیصر ہلاک ہو جائیں گے ان کے بعد کوئی کسری و قیصر نہیں۔( صحیح بخاری کتاب الجہاد والسير باب الحرب خدعة ) کسرئی اور قیصر کے بعد ان کے جانشین بھی کسری و قیصر تو کہلائے ، مگر اس جیسا کوئی کسری یا قیصر ظاہر نہ ہوا جو رسول اللہ کے زمانہ میں حکمران تھا۔حضرت بانی جماعت احمدیہ فرماتے ہیں:۔خود آنحضرت ﷺ نے لا نبی بعدی فرما کر اس امر کا فیصلہ فرما دیا تھا کہ کوئی نبی نبوت کے حقیقی معنوں کے رو سے آنحضرت ﷺ کے بعد نہیں آسکتا اور پھر اس بات کو زیادہ واضح کرنے کے لئے آنحضرت ﷺ نے یہ بھی فرما دیا تھا کہ آنے والا مسیح موعود اسی امت میں سے ہوگا۔“ (کتاب البریہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 218 ایڈیشن 2008 ) مزید برآں قرآن کریم میں بھی امتی نبی پیدا ہونے کا ذکر موجود ہے (سورۃ النساء 70 ) اور حدیث میں آخری زمانہ میں حضرت عیسی کے ”نبی اللہ ہو کر آنے کا بیان ہے۔(مسلم کتاب الفتن باب ذکر الدجال) پس قرآن وحدیث کے خلاف لا نَبِيَّ بَعْدِی میں یہ معنی کیسے مراد لئے جا سکتے ہیں کہ میرے بعد کسی قسم کا کوئی نبی بھی پیدا نہیں ہو گا بلکہ قرآن وحدیث کی پیروی میں یہی معنے ہوں گے کہ میرے بعد میری شان کا کوئی تشریعی نبی پیدا نہ ہوگا اور جو ہو گا وہ میرا تابع ، امتی ، خادم اور غلام ہوگا۔حضرت بانی جماعت احمدیہ فرماتے ہیں: ”ہمارا نبی خاتم الانبیاء۔ہے آپ کے بعد کوئی نبی نہیں سوائے اس شخص کے جو آپ کے نور سے منور کیا گیا ہو اور اس کا ظہور آپ کے ظہور کاظل ہو۔“ (استفتاء مترجم صفحہ 54 روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 643 ایڈیشن 2008)