مسیح اور مہدیؑ — Page 570
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 570 حديث لا نبي بَعْدِي کا مطلب گواہی دے کر فرمایا کہ وہ آنے والا مسیح موعود نبی اللہ ہو گا یعنی وہ اللہ کا نبی ہو کر آئے گا۔(صحیح مسلم کتاب الفتن باب ذکر الدجال۔کتاب ہذا صفحہ 383 حوالہ نمبر 135) اسی طرح ایک اور موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ صراحت بھی فرما دی کہ میرے اور اس آنے والے مسیح موعود کے درمیانی زمانے میں کوئی نبی نہیں۔(سنن ابوداؤ دار دو جلد سوم صفحہ 266 مترجم محمد انور مگھا لوی ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور ) 200 پس لا نَبِيَّ بَعْدِی کے ایک معنے یہ ہوئے کہ میرے معا بعد کوئی نبی نہیں ، کیونکہ نبی کریم کے مذکورہ بالا فرمان کے مطابق ” بعدیت“ کا زمانہ مسیح موعود کے زمانہ تک ممتد تھا جس نے ”نبی اللہ ہو کر آنا تھا اسی لئے آپ نے فرمایا تھا کہ ابو بکر سب سے بہتر اور افضل ہیں سوائے اس کے کہ کوئی نبی پیدا ہو۔(جامع الصغير جلد 1 صفحه 11 دار الكتب العلمية بيروت ) 201 رسول اللہ نے محض امتی نبی کے پیدا ہونے کا امکان کھلا رکھا ہے۔چنانچہ حضرت موسیٰ نے 202/ جب اپنے رب کے حضور امت محمدیہ کا نبی ہونے کی درخواست کی تو یہی جواب ملا کہ اس امت کا نبی امت میں سے ہی ہوگا۔( خصائص الکبری جلد اول صفحہ 30 ممتاز اکیڈمی لاہور ) حضرت بانی جماعت احمد یہ الزام خصم کے طور پر ختم نبوت پر ایمان کے باوجود حضرت عیسی کے دوبارہ جسمانی نزول کے قائلین پر اتمام حجت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: 1 " جس طرح سے آپ لوگ حضرت عیسی کو آخری زمانہ میں اتارتے ہیں اور پھر اس حالت میں ان کو نبی بھی مانتے ہیں بلکہ چالیس برس تک سلسلہ وحی نبوت کا جاری رہنا اور زمانہ آنحضرت ﷺ سے بھی بڑھ جانا آپ لوگوں کا عقیدہ ہے۔بے شک ایسا تو معصیت ہے اور آیت وَلكِن رَّسُولَ اللهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيِّنَ اور حدیث لَا نَبِيَّ بَعْدِيی اس عقیدہ کے کذب صریح ہونے پر کامل شہادت ہے۔۔۔نبوت کی تمام کھڑکیاں بند کی گئیں مگر ایک کھڑکی سیرت صدیقی کی کھلی ہے یعنی فنافی الرسول کی۔" ایک غلطی کا ازالہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 207 ایڈیشن 2008) 2۔”ہمارے نبی کا خاتم الانبیاء ہونا بھی حضرت عیسی کی موت کو ہی چاہتا