مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 509 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 509

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 509 رسول اللہ کے ساتھ قبر میں مسیح کی معیت کا مطلب -28۔رسول اللہ کے ساتھ قبر میں مسیح کی معیت کا مطلب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِورَضِي اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَنزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ إِلَى الْأَرْضِ فَيَتَزَوَّجُ وَيُوْلَدُ لَهُ وَيَمْكُتُ خَمْسًا وَأَرْبَعِينَ سَنَةً ثُمَّ يَمُوتُ فَيُدْ فَنُ مَعِيَ فِي قَبْرِي فَأَقُومُ أَنَا وَعِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ بَيْنَ 177 أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ (مشکوۃ شریف اردو جلد سوم صفحه 47 فرید بک سٹال لاہور) ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ عیسی بن مریم تشریف لائیں گے وہ شادی کریں گے اور ان کی اولاد ہوگی اور وہ 45 سال رہیں گے پھر وفات پائیں گے اور میرے ساتھ میری قبر میں دفن کئے جائیں گے پھر میں اور عیسی بن مریم ایک ہی قبر سے ابو بکر و عمر کے درمیان سے اٹھیں گے۔تشریح : اس حدیث کے لفظ نزول میں حضرت عیسی علیہ السلام کی تمثیلی بعثت کی طرف اشارہ ہے۔نیز آپ کی بعض ذاتی علامات و خصوصیات کا بھی ذکر ہے۔جیسا کہ پہلے بھی وضاحت کی جاچکی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات از روئے قرآن و حدیث ثابت ہو جانے کے بعد ان کے نزول سے مراد ان کے مثیل کا آنا ہی ہے۔جس کے بارہ میں رسول اللہ ﷺ کا یہ واضح فرمان ہے کہ: د عیسی بن مریم کے سوا کوئی مہدی نہیں۔“ (سنن ابن ماجہ ابواب الفتن باب شدة الزمان ) اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ مثیل ابن مریم اور امام مہدی کی مسیح اول سے کئی مشابہتیں بھی ہیں۔اس کے ساتھ کچھ مغائرت اور فرق بھی لازم ہے مثلاً آنیوالے مسیح موعود کے بارہ میں بطور خاص یہ ذکر ہے کہ وہ مجتر د نہیں رہیں گے بلکہ شادی کریں گے اور ایسی مبشر اولا د پائیں گے جوان کا مشن اور کام جاری رکھنے والی ہوگی۔پھر اس حدیث میں یہ پیشگوئی بھی ہے کہ مسیح موعود زمین میں 45 سال ٹھہریں گے (اکثر روایات میں یہ مدت چالیس سال مذکور ہے ) جس کے بعد وہ مسیح و مہدی اس دنیا میں طبعی موت سے نیک انجام کے ساتھ طبعی وفات پائیں گے ( یعنی قتل نہیں ہوں گے